آذربائیجان کا اسرائیلی اور ترکی تعلقات میں تعاون کا اعلان

شیعیت نیوز : آرمینیا کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی اور ترکی کی طرف سے بھرپور مدد ملنے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیئیو نے دونوں ممالک میں تعلقات بحال کرنے کی پیش کش کردی ہے۔
آئی 24 نیوز کے مطابق اسرائیلی اور ترکی دونوں نے آرمینیا کے ساتھ جنگ کے دوران آزربائیجان کی فوجی مدد فراہم کی تھی، جس کے بدلے میں آذربائجان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جو پچھلے کئی سالوں سے غیر معمولی سطح پر ناسازگار ہیں، کو بحال کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع نے ولّا نیوز کو بتایا کہ آذربائیجان کے صدر نے صیہونی ریاست کے ساتھ اپنے ترکی کے تعلقات بحال کرنے کے حوالے سے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے فون پر بات کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اردوان نے اس حوالے سے مثبت جواب دیا ہے اور اس خیال کو یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم سپاہ صحابہ کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کیلئے مدرسے کے قیام اور فنڈنگ کا جرم، غلام رسول ربانی کو سنگین سزاسنادی گئی
دوسری جانب آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ نیگورنو کاراباخ میں ہونے والے ایک حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کی وزارت دفاع نے بتایا کہ نیگورنو کاراباخ میں حملہ پیر کی صبح ہوا۔
دوسری جانب آرمینیا کے حکام نے آرمینیائی باغیوں اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان خطے میں تصادم کی رپورٹس کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان گزشتہ ماہ روس کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے کے بعد خطے میں تصادم کی یہ پہلی رپورٹ نہیں ہے بلکہ رواں ماہ کے دوسرے عشرے میں بھی خبریں آئی تھیں کہ آرمینائی اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔