سعودی عرب کا غرور و تکبر قطر کے سامنے ڈھیر
شیعت نیوز : اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعلقات استوار کرنے اور تعاون بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ دوسری بار ہے جب سعودی عرب اور اس کی جی حضوری کرنے والے بعض علاقائی ممالک قطر سے تعلقات استوار کرنے اور تعاون بحال کرنے کی ملتمسانہ گزارش کر رہے ہیں، البتہ اس بار فرق یہ ہے کہ نہ تو تعلقات کی بحالی کے لیے تیرہ شرطوں کی بات کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان شرطوں کو متوازن بنانے کی کوشش کی گئی بلکہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے نے کہا ہے کہ قطر میں ترکی کی موجودگی ختم ہو اور قطر، ایران سے اپنے تعلقات ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی ایرانی کمانڈروں پر پابندیاں لگانا ایک سازش ہے۔ جنرل حسین اشتری
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے جون سن دو ہزار سترہ میں یکطرفہ طور پر قطر سے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس کا زمینی، فضائی اور بحری محاصرہ کر کے اس سے کہا تھا کہ اگر وہ تیرہ شرطیں مان لے تو اس کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گا۔ یہ شرطیں، ہر شعبے میں قطر کی پالیسیوں کو تبدیل کرانے کے مساوی تھیں، اسی لیے قطر نے انھیں تسلیم نہیں کیا اور اپنی سیاسی خودمختاری کی حفاظت پر تاکید کی۔ یہ چیز ان چار ملکوں خاص طور پر سعودی عرب کو اتنی گراں گزری کہ اس نے قطر کے موجودہ امیر کے سلطنتی حریفوں کی حمایت کرنا شروع کر دیا لیکن چار سال گزرنے کے بعد بھی قطر کے محاصرے کا نہ صرف یہ کہ کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے بلکہ سعودی عرب کی قیادت پر بھی سنجیدگی سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔
قطر سے تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے التماس ایسے عالم میں ہے کہ جب ان دنوں یمن اور لیبیا کے حالات نے سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کی پوزیشن بری طرح سے خراب کر رکھی ہے اور ان حالات میں قطر کے لیے پیشگی شرط معین کرنا، ایک سیاسی مذاق ہی نظر آتا ہے۔
قطر کی حکومت اور قوم، سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کی جانب سے مسلط کیے گئے چار سالہ محاصرے کے دوران استقامت کا مظاہرہ کر کے در حقیقت خطے میں ’’سعودی عرب کے بغیر زندگی‘‘ کے ایک نئے ماڈل میں تبدیل ہو گئی ہے اور بہت بعید ہے کہ جب تک اسے کچھ ٹھوس پوائنٹس حاصل نہ ہوں، وہ اپنی اس شبیہ کو بدلنے پر تیار ہوگی۔







