پنجاب حکومت کا ظالمانہ اقدام، صوبےبھرمیں جلوس یوم علیؑ پر پابندی عائد
شیعت نیوز: پنجاب حکومت کا ظالمانہ اقدام ،وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب حکومت نے رمضان کے آخری عشرہ اور یوم علی ؑکے موقع پر صوبہ میں ہر قسم کے جلوس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس کی مشروط اجازت ہوگی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری مراسلہ کے مطابق ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس کی مشروط اجازت ہوگی۔ مجالس کا وقت ایک گھنٹہ ہوگا، انتظامیہ وقت کی پابندی پر عمل کرائے گی۔ امام بارگاہوں میں مجالس کا انعقاد صاف فرش پر کیا جائے گا۔ مجالس کے آغاز اور اختتام پر ہجوم اکٹھا نہیں ہوگا۔ بچے، پچاس برس سے زائدالعمر اور بیمار افراد مجلس میں نہیں آئیں گے۔ مجلس سے پہلے امام بارگاہ کے فرش کو کلورین سے دھویا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جلوس یوم علیؑ کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والا آفتاب نذیر تاحال قانون کی گرفت سے آزاد
مراسلے کے مطابق مجلس کے شرکاء وضو گھر سے کرکے آئیں گے۔ شرکاء اور قطاروں کے درمیان کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ ہوگا۔ ہر کسی کیلئے ماسک، دستانے پہننا لازمی ہوگا۔ مراسلے کے مطابق لاؤڈ سپیکر کی اجازت ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015ء کے تحت ہوگی۔ امام بارگاہوں کی انتظامیہ صوبائی، ضلعی حکومتوں اور پولیس سے قریبی رابطہ رکھے گی۔ رمضان کے آخری عشرہ اور یوم علی ؑ کے موقع پر سخت سکیورٹی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے کے مطابق کوویڈ 19 سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مجالس کے انعقاد کی مشروط اجازت ہوگی۔ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں پنجاب حکومت پالیسی پر نظرثانی کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی ایس اوپیز کے مطابق یوم علیؑ کے جلوس ہر صورت میں برآمد ہوں گے، حافظ سید کاظم رضا نقوی
اس سے قبل پنجاب حکومت اور شیعہ عمائدین کے درمیان مذاکرات کے چار دور ہوئے، تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ اب پنجاب حکومت نے وفاق کی جانب سے پالیسی جاری ہونے پر اسے ہی فالو کرتے ہوئے پنجاب میں جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ قبل ازیں ہونیوالے مذاکرات میں شیعہ عمائدین نے ہر صورت میں جلوس نکالنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، جبکہ انتظامیہ جلوس نکالنے کے حق میں نہیں تھی، پہلے پنجاب انتظامیہ نے شیعہ عمائدین کو مشروط طور پر جلوس نکالے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم اسے وفاقی حکومت کے فیصلے سے مشروط کر دیا گیا تھا، گذشتہ رات وفاق کی جانب سے پالیسی جاری ہونے پر پنجاب انتظامیہ نے بھی واضح پالیسی دیتے ہوئے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ صرف مجالس کے انعقاد کی اجازت دی ہے۔







