غوطہ شرقیہ کو لیکر اس قدر کھلبلی کیوں ہے ؟

05 مارچ, 2018 09:54

۱۔دارالحکومت دمشق پر ایک بڑے حملے اور پھر اس کے ایک حصے پر قبضہ کرنے کے بعد متوازی حکومت کے اعلان کا پلان برملا ہوتا
الف:انٹیلی جنس خبروں اور سیٹلائٹ تصاویر واضح کرتی ہیں کہ شام کے التنف علاقے پر قابض امریکی افواج پانچ ہزار سے زائد جنگجووں کی ٹریننگ کررہی ہیں کہ جنہوں نے اس حملے میں شرکت کرنی ہے ۔
شامی انسانی حقوق نیٹ ورک نامی حکومت مخالف تنظیم کا سربراہ احمد حازم نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ادلب شہر اور دیگر علاقوں سے بہت سے عسکریت پسندوں کو امریکی التنف میں موجود اپنے اڈوں میں لارہے ہیں ۔
ب:اس حملے کے لئے فضائی مدد اسرائیل کی جانب سے فراہم کی جانی تھی کہ جس نے گذشتہ ہفتوں مسلسل شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا تھا لیکن شام کی جانب سے ایف سولہ طیاروں کو گرانے کے بعد اس کے حملے رک گئے ۔
ج:سعودی حمایت یافتہ شدت پسند گروہ جیش الاسلام کی جانب سے دمشق کے مضافات میں النشابیہ اوت اوتایا نامی دو علاقوں سے مشرقی قلمون نامی جگہ کی جانب پیشقدمی کی کوششیں بھی اسی پلان کا حصہ تھیں ۔
دمشق میں شام اور اس کے اتحادیوں کے آپریشن روم کی جانب سے بروقت اقدام کے سبب سعودی حمایت یافتہ شدت پسند گروہ جیش الاسلام کو مذکورہ دو علاقوں سے پسپا ہونا پڑا اور ان دونوں علاقوں کے شام کی افواج نے شدت پسندوں کو ماربھگایا ۔
کہا جارہا ہے کہ24 اور 25فروری کو انجام دئے جانے والے اس آپریشن میں شریک شام اور اسکے اتحادیوں کی اسپیشل فورسز نے حصہ لیا تھا اور اس کی وجہ ان علاقوں میں موجود سعودی اور برطانوی فوجی تھے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سعودی اور برطانوی فوجی پکڑےجاچکےہیں ۔
واضح رہے کہ امریکی اسرائیلی سعودی ،فرانسوسی اور برطانوی فوجی سفید ہلمٹ اور Doctors without Borders جیسی تنظیموں کی آڑ میں غوطہ شرقیہ میں گھسے ہیں ۔
بعض عرب میڈیا نے برطانوی اخبار سنڈے ایکسپریس کے حوالے سے برطانوی فوجی کے پکڑے جانے کی خبر بھی نشر کی ہے
۲۔عرب زرائع ابلاغ نے امریکی میڈیا خاص کر لاس اینجلس ٹائمز میں چھپنے والی ایک خبر اور مقامی زرائع سے خبر دی ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ غوطہ شرقیہ میں آپریشن کو روکنے کے لئے فضائی حملے کرے ۔
لیکن ایف سولہ طیارے کو مارگرانے کے بعد روسی صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے رابطہ کرکے خبردار کردیا تھا کہ اس کے طیاروں کی مزید جارحیت کیخلاف شام میں موجود روسی ایس 400جیسا ڈیفنس سسٹم بھی حرکت میں آسکتا ہے ۔
۳۔دمشق کے مضافات میں امریکی اہداف
الف:اردن کی مضمون نگار خاتوں ماجدہ الحاج نے اپنے ایک مضمون میں شام میں اپنے زرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی دمشق کے قریب اپنا ایک مستقل اڈہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔
امریکی اردن ،عراق اور شام کے سنگم میں واقع التنف جیسی اہم جگہ پر اپنا اڈہ قائم کرنے کے بعد پلان رکھتے تھے کہ شام اور لبنان کے درمیان دارالحکومت دمشق کے اطراف میںبھی اپنا اڈہ قائم کریں ۔
جو یقینا شام کی سرحد کو چند جوانب سے گھیرنا ہوتااور زمینی راستوں کو منقطع کرنے مترادف ہوتا۔
ب:دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ایک بڑے حصے پر قبضے کے بعد شام کی حکومت کی متوازی حکومت قائم کرنا اور پھر اسے بین الاقوامی سطح پر قانونی حکومت کے طور پر منوانا۔
ج: ماجدہ کے مطابق امریکہ ایک تیرسے کئی شکارکرنا چاہتا تھا کہ جس میںاسرائیلی ، سعودی برطانوی اور فرانسوی بھی شامل ہیں اور ان کے جانب سے نہ صرف لوجسٹک مدد کی جارہی ہے بلکہ ان کے عسکری ماہرین اور فوجی آفیسرز غوطہ شرقیہ میں موجود ہیں ۔
وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ قریب ہوتے روسی انتخابات میں دمشق کے ایک حصے پر قبضہ کرکے پیوٹن پر ایک کاری ضرب لگادیں تاکہ انتخابات میں پیوٹن کی مقبولیت کا گراف کرسکے ۔
لیکن ماسکو ان کے اس پلان سے بروقت باخبر ہوا کہ جس نے فورا اقدام کرتے ہوئے اپنے جدید ترین طیاروں سوخوئی 57جو کہ امریکی ایف 35پر برتری رکھتے ہیں کو شام روانہ کردیا اور ادھر غوطہ کے آپریشن میں تیزی آنے لگی ۔
خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ روس کی بری فوج کاایک دستہ بھی شام میںآیاہے جو غوطہ آپریشن میں شریک ہوسکتا ہے گرچہ غوطہ کا آپریشن شام اور اس کے اتحادی رضاکارفورسز کررہی ہیں کہ جس میں لبنانی فورس حزب اللہ سرفہرست بتائی جاتی ہے کہ اسرائیلیوں کی موجودگی ظاہر ہے کہ ان کی دلچسپی کو مزید بڑھاوا دے سکتی ہے ۔
واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل میں لبنانی فورس کو لیکر ہی ڈھائی ہزار امریکی اور دو ہزار اسرائیلی افواج کے درمیان مشترکہ جونیپر کوبراJuniper Cobraنامی جنگی مشقیں ہورہی ہیں کہ جس میں وہ لبنان سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنے کی ٹریننگ کرنے جارہے ہیں ۔
د:شام اور اس کے اتحادیوں کے اچانک اس اقدام سے امریکہ اور اس کے اتحادی بری طرح سیراسمگی کے شکار دیکھائی دیتے ہیںکہ انہوں نے فورا غوطہ میں فائر بندی کا شور مچایا اور سیکوریٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے لگےان میں موجود کھلبلی اس بات کو مزید تقویت پہنچاتی ہے کہ غوطہ میں ایسا کچھ تو ہے کہ جس کی پردہ داری ضروری ہے ۔
انہیں اس بات کا خطرہ ہےکہ کہیں آپریشن کے سبب غوطہ میں بیٹھے ان کے عسکری ماہرین اور فوجی قیدی نہ بنادیے جائیں ۔
انہیں اس بات کا بھی خوف ہےکہ کہیں غوطہ میں موجود جدید مواصلاتی نظام اور وہاں موجود غیر ملکی شدت پسندوں کے بارے میں پول نہ کھل جائے ۔
یہی وجہ ہے کہ غوطہ میں موجود شدت پسند گرہوں نے فورا اس بات پر اتفاق کرلیا کہ وہ وہاں موجود القاعدہ نواز گروہ النصرہ فرنٹ کو نکال باہر کرنے کے لئے تیار ہیں ۔
روسی دو نیوز ایجنسی Ribortillorاور Sputnikنے انکشاف کیا کہ روس کے جدید طیاروں کو شام بھیجنے کا مقصد طاقت کے توازن کو فورابرقرار رکھنا اور کسی بھی قسم کے امریکی حملوں کا جواب دینا ہے ۔
ادھر شام کے سرکاری بیانات اور مشترکہ آپریشن روم کی جانب سے نشر ہونےوالی خبریں تاکید کرتی ہیں کہ وہ ہر حال میں غوطہ کے آپریشن کو مکمل کرکے ہی دم لینا چاہتے ہیں
روسی زرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کے نام ایک خط بھیجا گیا ہے کہ جس میں غوطہ کے آپریشن سمیت آنے والا حالات کے بارے میں شام کی مکمل تائید اور حمایت کا یقین دلایا گیا ہے ۔
زرائع ابلاغ کے مطابق غوطہ میں زمینی طور پر آپریشن جاری ہے اور اس کے صالحیہ علاقے سے النصرہ فرنٹ کے پسپاہوکر مشترکہ طور پر فرار ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں اور النشابیہ اور اوتایا نامی اہم پوائنٹس کے آپریشن کو کلئیر کردیا گیا ہے ۔
مشرق وسطی سے چین کی جانب
۴۔ادھر24فروری کو امریکہ میںٹرمپ اور دولت مشترکہ Commonwealth States
کے سربراہ کے طور پر آسٹریلوی وزیر اعظم مالکم ٹرنبل کے درمیان ہونے والی ملاقات کے درمیان اس بات کو لیکر اتفاق ہوا ہے کہ اب مشرق وسطی کے بجائے زیادہ تر فوکس چینی سلک روڈ پروجیکٹ کی جانب ہونا چاہیے ۔
یہاں اس مضمون میں اس پہلو کو بیان کرنے کا مقصد صرف اس نکتے کی جانب توجہ دلانا ہے جو فتنہ کردستان سے تعلق رکھتا ہے کہ جس کا براہ راست چین کے اس منصوبے سے بھی تعلق پیداکرتا دیکھائی دیتا ہے ۔
چین اپنے سلک روڈ پروجیکٹ کو اگر ترکی کے راستے یورپ میں داخل کرنا چاہے گا تو ترکی کو کردستان کے فتنے کی آگ بڑھکا کر روکا جاسکتا ہے ۔
البتہ یہ موضوع ایک مستقل تجزیے کا طلبگار ہے ۔۔خاص کر کہ روسی صدر پیوٹن کی حالیہ طویل گفتگو اور اس میں اپنے اتحادیوں کے خلاف ممکنہ امریکی ایٹمی جارحیت کو لیکر خبردار کرنا اور پھر جدید اسلحے اور یفنس کی نمائش ایسے موضوعات ہیں جو ہمیں آنے والے عالمی منظرنامے کے بارے میں منفرد خبر دیتے ہیں

12:04 شام اپریل 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔