شعراء کی ملاقات کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

21 جون, 2016 00:00

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کی رات فرزند رسولۖ حضرت امام حسن (ع) کی شب ولادت باسعادت کے موقع پر شعرائے کرام کی جانب سے کی جانے والی ملاقات میں ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں امریکی خلاف ورزیوں اور خیانتوں سے عالمی رائے عامہ کو باخبر کئے جانے کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کی رات فرزند رسولۖ حضرت امام حسن (ع) کی شب ولادت باسعادت کے موقع پر پاکستان، ہندوستان اور افغانستان کے مختلف شعرائے کرام اور فارسی زبان و ادب کے اساتذہ نیز مختلف ثقافتی شخصیات سے اپنے خطاب میں ایٹمی معاہدے سے متعلق امریکی خیانتوں کو ممکنہ شعری تخیلات سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ سیاستدانوں، فنکاروں اور خاص طور سے شعرائے کرام کو چاہئے کہ تمام حقائق کو رائے عامہ میں منتقل کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس وقت ایک اور سافٹ وار اور سیاسی و ثقافتی جنگ جاری ہے اور اس سلسلے میں موثر ہتھیار کی حیثیت سے شعر کے ذریعے بڑی ذمہ داری پر عمل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ آپ نے بامقصد اشعار کی وسیع پیمانے پر ترویج اور اس سلسلے میں ذمہ دار اداروں اور حکام کے فرائض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ماضی کے مقابلے میں اس وقت فلسطین، یمن، بحرین، مقدس دفاع، شہداء اور نائیجیریا کے شجاع عالم دین شیخ الزکزاکی جیسے مجاہدوں کی مظلومیت کے بارے میں تازہ اور اہم اشعار کہے جا رہے ہیں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان موثر نیز جذبے سے سرشار اشعار کی صحیح طرح سے ترویج نہیں ہو رہی ہے اور اس بارے میں غفلت برتی جا رہی ہے اور یا صحیح طرح سے اس پر کام نہیں ہو پا رہا ہے۔ آپ نے غیر موثر اور بے عقیدہ فنکاروں کی قدردانی و ترویج میں عمل میں لائے جانے والے بعض اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ افسوس کہ بعض اوقات ایسے فرد کی قدردانی کی جاتی ہے کہ جس کی جانب سے اسلام اور اسلامی انقلاب کے مفاہیم کی طرف کسی بھی طرح کے رجحان کا مظاہرہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف ایسے فنکار پر کوئی توجہ تک نہیں دی جاتی جس نے اپنی پوری عمر اور اپنے فن کا سارا سرمایہ اسلام، اور انقلاب پر صرف کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی سابق طاغوتی حکومت کے خلاف جدوجہد اور اسی طرح مقدس دفاع کے دوران جوش و جذبہ پیدا کرنے والے نوحوں کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ البتہ آج کی جنگ اور اس کی نوعیت، انقلاب کے ابتدائی برسوں اور اس وقت کی جنگ سے بالکل مختلف ہے اور ہم اس وقت سافٹ وار اور سیاسی، سیکورٹی اور ثقافتی جنگوں اور اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں سرگرم ہیں جس میں افکار اور عزائم کارفرما ہیں اور جدوجہد کے اس میدان کا ایک موثر ہتھیار خود شعر و شاعری ہے۔ آپ نے فلسطین، یمن، بحرین مقدس دفاع اور علاقے کے مسائل کے بارے میں اشعار کہے جانے اور اسی طرح دعاؤں اور دینی متون کے الفاظ و مضامین کو اشعار میں تبدیل کئے جانے نیز معارف ائمہ و معصومین (ع) کو منتقل کئے جانے کے مقصد سے گہرائی کے ساتھ بہترین اشعار کہے جانے کی ضرورت پر بھی تاکید فرمائی۔

10:29 شام مارچ 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔