خدارا کچھ تو سوچیں!!!

12 جنوری, 2016 00:00

تحریر: توقیر حیدر

گذشتہ روز ایک معاصر نیوز ایجنسی سے تعلق رکھنے والے عزیز دوست نے ایران ۔سعودیہ کے مسئلے پر منفرد اور دلچسپ کالم لکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے جیالوں (پاکستان سے تعلق رکھنے والوں) کو دل سے پہلے اپنی آنکھیں کھولنے کا مشورہ دیا ہے۔

اگر چہ عرب و عجم کی لڑائی اور رقابت ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے کم از کم صدر اسلام تک تو عجم ایک بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقت تھا، اہل عجم آتش پرست تو اہل عرب بت پرست، لیکن ایک بات تاریخ میں ثبت ہے کہ عجم جنگ و جدل سے پرھیز کرتے تھے اور کشور کشائی پر یقین نہیں رکھتے تھے، جب کہ دوسری طرف عرب قبائل کی صورت میں رہتے تھے، لڑائیوں و جنگوں کے ماہر تھے، کسی چھوٹے مسئلے پر بھی جنگ چھڑ جاتی تو سالہاسال تک جاری رہتی تھی اس کی ایک مثال داحس و غبرا کی لڑائی ہے۔

تاریخ کے در یچوں سے تیزی سے گذرتے ہوئے ہم گذشتہ صد ی میں آجاتے ہیں جہاں حجاز مقدس میں آل سعود حکومت قائم کرتے ہیں یہ حکومت اسلامی نظریہ حیات سے بالکل مختلف تھی ، یہی وجہ ہے کہ ملک کانام عرب یا حجاز کے نام پر نہیں بلکہ قابض حکمران نے اسکا نام اپنے نام پر رکھ دیا، یعنی آل سعود کی تحریک کا نظریہ ـ’بادشاہت‘تھا ،دوسری طرف ایران میں پہلے سے ہی بادشاہی نظام تھا۔ قطع نظر اس کے دونوں ممالک میں رائج مسلک و مذھب و فرقہ کیا تھا، بادشاہی نظام میں اشتراک تھا، دونوں ہی بادشاہ تھے، ظالم تھے، اپنے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیتے تھےاور آپس میں کوئی چپقلش نہیں رکھتے تھے۔

دونوں بھائی تھے یا پھر کم از کم ظاہر یہی کرتے تھے، گذشتہ صدی کی ساتویں دھائی کے آخر ی سالوں میں ایران میں ایک انقلاب آیا،یہ انقلاب عوامی بھی تھا اور اسلامی بھی، اس انقلاب نےبادشاہی نظام کو الٹ دیا، بادشاہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سمیت ملک چھوڑ کر بھاگ گیا اور انجام یہ ہوا کہ اپنے ملک میں اسے قبر کی جگہ بھی نہ ملی۔ اس اسلامی انقلاب کے رہبر و رہنماآیت اللہ خمینی نے ملک میں ریفرنڈم کرانے کا حکم دیا، اور عوام نے اس رہبر کی بات مان کر اس جمہوری عمل میں بھر پور شرکت کی اور ملک کا نام ’ اسلامی جمہوریہ ایران‘ رکھ دیاگیا۔

اسلامی انقلاب اب آل سعود کے لئے مسلکی خطرہ نہیں تھا لیکن بادشاہی نظام کا الٹنا ان کے لئے سخت فکر کی بات تھی، لہذاانہوں نے مسلکی اختلاف کو بادشاہت کے لئے ڈھال سمجھ کر اسے حوب استعمال کیا اور پھر پوری دنیا کو بادشاہی مخالف اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے فرقہ واریت کا بیج بو یا۔ دوسری طر ف انقلاب اسلامی نے اتحاد بین المسلمین کے نعرے کے ذریعہ فرقہ واریت کا مقابلہ کیااور اپنی کوشیش تیز کردیں۔

اسلامی انقلاب کے عوامی اثرات ہر ملک پر پڑے، اور یوں اسلام کا رستہ روکنے کے لئے آل سعود نے نہ صرف عرب ریاستوں اور خلیجی ممالک سے مد د طلب کی بلکہ امریکا و اسرائیل کو بھی ہم نوالہ و ہم پیالہ بنالیا۔

4:38 صبح اپریل 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔