دس ماہ سےجاری امریکہ طالبان مذاکرات اہم مرحلےمیں داخل

امریکا اور طالبان کے درمیان خفیہ مذاکرات نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ امریکا نے بات چیت آگے بڑھانے کیلئے گونتانامو بے جیل سے طالبان قیدیوں کو افغان حکومت کی تحویل میں دینے پر غور شروع کردیا ہے۔ طالبان سے بھی اقدامات کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔امریکا چاہتا ہے کہ طالبان بین الاقوامی دہشت گردی کی مذمت اور کرزئی حکومت کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کریں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان سے خفیہ مذاکرات صدر براک اوباما کی طویل المدتی افغان پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ امریکا نے غیر اعلانیہ طور پر طالبان کی جانب سے دوسرے ممالک میں دفاتر کھولنے کی حمایت کا بھی عندیہ دیا ہے ۔ جس کا مقصد امن مذاکرات کی راہ ہموار رہے۔
افغان صدر کو طالبان سے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا رہا ہے اوردوسرے مرحلےکی کامیابی کے بعد امریکی ثالثی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں اور یہ مذاکرات افغان جنگ کے خاتمے کی بنیاد ثابت ہوں گے۔








