مغرب دوہرے معیارات کا حامل

اسلامی جمہوریہ ایران کے کارگزار وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے تہران میں جرمنی کے نائب وزیرخارجہ سے ملاقات میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد سے ہٹ کر یورپ کی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ صالحی نے جرمن نائب وزیرخارجہ سے کہا کہ ایران نے ہمیشہ رکاوٹوں کے خاتمے اور تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کی ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں نشیب وفراز کے باوجود امید کرتےہیں کہ تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہیں ہونگي۔ یادرہے یورپ کے بعض ممالک نےامریکہ کی پیروی کرتےہوئے ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں لگائي ہیں۔ قابل ذکرہے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے تئيس رپورٹوں میں تائيد کی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں قانون سے کسی طرح کا انحراف نہیں پایاجاتا اور ایران نےاپنی تمام ذمہ داریوں پرعمل کیا ہے۔آئي اے ای اے نے یہ بھی کہا ہےکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی مقاصد نہیں ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران نے حال ہی میں مختلف ملکوں کے نمایندوں کو ایران آکر ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی دعوت دی تھی ۔ ان ملکوں میں یورپی یونین اور امریکہ کو بھی آنے کی دعوت دی گئي تھی۔ حال ہی میں ایک سو بیس ملکوں کےنمائندوں نے ایران آکر نطنز اور اراک کی ہیوی واٹر تنصیبات کا معائنہ کیا۔ ان نمائندوں نے اپنی رپورٹ میں مثبت نظریات کا اظہار کیا ہے۔ ادھر روس کے صدر مدودوف نے ڈیووس کے ورلڈ اکونومیک فورم کے اجلاس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو پرامن قراردیتےہوئے کہا کہ ایسا کوئي ثبوت نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ایران ایٹم بم بنانے کے درپے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سعید جلیلی نے استنبول مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مغربی ہٹ دھرمی کاجواب دیتےہوئے کہا تھا کہ مغرب ایٹمی انرجی کے بارےمیں دوہرے معیارات رکھتا ہےاور آخر کس وجہ سے یورپ میں دوسوسے زائد ایٹمی وارھیڈس تعینات رہنے چاہیں اسکی کیا وجہ ہے؟ اور عالمی برادری اس بات پر احتجاج کیوں نہیں کرتی ہے؟ انہوں نے کہا آج کی دنیا میں یہ ایک اہم سوال ہے۔ جلیلی نے کہا کہ وہ لوگ جو پرامن مقاصد کےلئے سنٹری فیوج بنانے پر ایران کے خلاف قراردادیں منظور کرتےہیں کیا انہیں ان قوتوں کے خلاف قرارداد منظور نہیں کرنی چاہیے جنہوں نے صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کیا ہے؟







