امام زمانہ عج کے حقیقی سپاہیوں کی خصوصیات

آئمہ اطہار کی روایات میں امام زمانہ عج کے ظہور کے منتظرین کا خاص مقام ومرتبہ بیان کیا گیا ہے اور اجر عظیم کا مستحق قرار دیا گیاہے امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :واعلمواان المنتظرلھذا الامر لہ مثل اجر الصائم القائم ۔۔۔۔)جان لو جو اس امر (امام زمانہ عج کے ظہور )کا منتظر ہے اس کو روزہ رکھنے والے اور نماز پڑھنے والے کے جیسا ثواب ملے گا (اصول کافی ج۲ ۔ص۲۲۲) اگر ایک جوان مومن اپنے امام کا حقیقی منتظر ہے تو پھر فرق نہیں کہ ظہور کے وقت زندہ ہو یا نہ ہو جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا ٍ:وہ شخص جو آپ اہل بیت ؑ کی ولایت کا اقرار کرتا ہو اور حق کی حکومت (یعنی امام زمانہ عج کی حکومت )کے ظہور کے انتظار میں رہتے ہوئے اس دنیا سے چلا جائے آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔امام صادق ؑ نے ارشاد فرمایا :ھوبمنزلۃ من کان مع القائم فی فسطاطہ ،ثم سکت ھنیۃ ثم قال ھو کمن کان مع رسول اللہ (المحاسن ،ج۱،ص۱۷۳۔بحار الانوار ج۵۲،ص۱۲۵)
وہ اس شخص کی مثل ہے کہ جو امام زمانہ عج کے ساتھ اس کے خیمے میں رہا ہو ،پھر تھوڑی دیر خاموشی اختیار کرنے کے بعد فرمایا:وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے میدان جنگ میں رسول اللہ کے ہمرکاب رہ کر جھاد کیا ہو ۔
اتنی فضیلت اور عظمت یقینا اس شخص کے لیے ہے جو امام کا سچا سپاہی اور حقیقی منتظر ہو ۔ وہ علامات جو امام زمانہ عج کے حقیقی منتظرین کے بارے میں بیان ہوئی ہیں انسان ان کا مطالعہ کرے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے کہ کتناامام کے قریب ہے کیونکہ انسان اپنے حالات سے خود آگاہ ہے ہم یہاں روایات سے استفادہ کرتے ہوئے امام زمانہ عج کے حقیقی منتظرین اور سچے سپاہیوں کی چند ایک علامات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ جوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن سکیں ۔
خداوند متعال کی معرفت اور بندگی سب سے پہلی علامت اور خصوصیت خداوندمتعال کی شناخت اور معرفت وبندگی ہے کیونکہ خداوند متعال نے انسان اورتمام مخلوقات کی پیدائش کا فلسفہ اور ہدف اپنی بندگی کو قراردیا ہے (وماخلقت الجن والانس الالیعبدون )حقیقی سپاہی خداوند متعال کی معرفت اس طرح رکھتے ہیں جس طرح کہ معرفت رکھنے کا حق ہے اما م علی علیہ السلام، امام زمانہ عج کے سچے سپاہیوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :وہ مومنین جنہوں نے خداوند کی معرفت ایسے حاصل کی ہے جیسے معرفت کا حق ہے اور وہ آخری زمانہ میں مہدی کے سپاہی ہیں )بحارالانوار،ج۵۷،ص۲۲۹ )
امام صادق ؑ ارشاد فرماتے ہیں :وہ (امام مھدی عج کے سپاہی اورحقیقی منتظرین )ایسے مرد مجاہد ہیں کہ جن کے دل فولاد کی طرح مظبوط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے دل پتھروں سے بھی زیادہ مظبوط ،محکم اور قوی ہیں )بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۰۷ (۲)
امام زمانہ عج کی شناخت :امام زمانہ کے حقیقی منتظرین کی ایک اور خصوصیت خود امام کی معرفت ہے اگرچہ ہرزمانے کے امام کی معرفت ہرفرد پر واجب ہے لیکن جو چیز سبب بنتی ہے کہ آخری امام ،امام مھدی عج کی معرفت زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ ان کی خاص شرائط ہیں جیسے امام کی ولادت کا مخفی ہونا ،مخفی طورپر زندگی گزارنا اور سخت امتحان وغیرہ حقیقی منتظرین جو درحقیقت ظہور کے وقت امام کے سپاہی ہونگے اپنے امام کی معرفت رکھتے ہیں اور ان کے پورے وجود میں اس معرفت کی جھلک نظر آتی ہے بہت ساری روایات میں آیا ہے (ومن مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ )کمال الدین وتمام النعمۃ ،شیخ صدوق ،ج۲،ص۴۰۹
امام صادق ؑ نے فرمایا:اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کر ،اگر معرفت حاصل کرلی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ظہور جلدی ہوجائے یا دیر سے ہو ۔۔۔پس ہروہ شخص جس نے اپنے امام کی معرفت حاصل کرلی ان کو پہچان لیا وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو امام کے خیمہ میں موجود ہو ۔(الغیبہ ،شیخ طوسی ،ص۳۳۱)
اگرچہ امام مھدی پردہ غیب میں ہیں لیکن ان کے وجود کا نور ان کے حقیقی منتظرین سے مخفی نہیں ہے اگر معرفت نہ ہو ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں جس طرح کہ بہت سارے لوگ تھے جنہوں نے رسول اکرم اور آئمہ اطہار کے زمانےمیں ان کے ساتھ زندگی گزاری لیکن معرفت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے ہمیشہ کےلیے محروم رہے ۔ امام صادق نے فرمایا :جس نے بھی اپنے امام کی معرفت حاصل کرلی اور امام کے ظٖہور سے پہلے چلا گیا فوت ہوگیا وہ اس شخص کی مانند ہے جو امام کی رہبری میں جنگ کرے گا نہ بلکہ اس شخص کی مانند ہے جو امام کے پرچم کے نیچے ہوگا (کافی ،کلینی ،ج۱،ص۳۷۱)
(۳)خداوند متعال اور اولیاء کی اطاعت جو امام زمانہ عج کا حقیقی منتظر ہے اور ان کے ظہور کے زمینہ کو فراہم کرنا چاہتا ہے خدااورامام کی معرفت کے بعد ضروری ہے کہ اب اس اعتقاد کو عملی جامہ پہنائے ،عمل، کردار اورنیت وغیرہ خدااورامام کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ حقیقی ماننے والوں کی یہ مہم ترین نشانی ہے اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے (خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہمارے قائم کو دیکھ لے درحالانکہ ان کے قیام سے پہلے بھی ان کا فرمانبردار ہو اس کے دوست کے ساتھ محبت اور ان کے دشمن کے ساتھ نفرت اور ہدایت اور سیدھا راستہ دکھانے والوں سے (مجتہداور باعمل علماء اوراولیاء )اپنے امام سے بھی زیادہ محبت کرنے والاہو وہ میرے ہمنشین ،میرے دوست اور میری امت میں سے سب سے زیادہ عزیز اور محبوب شخص ہے(الغیبہ ،ص۳۵۶۔کمال الدین وتمام النعمۃ ،ج۱،ص۲۸۶)
اس حدیث میں غوروفکر کی ضرورت ہے کہ جو واضح طورپر بیان کررہی ہے کہ حقیقی منتظرین کی ایک نشانی شیعوں اور علماء سے محبت ہے بلکہ فرمایا باعمل علماء سے محبت زیادہ ہوگی حتی کہ امام کی محبت کی نسبت ۔ امام کی خدمت کے لیے آمادہ رہنا یہ ایسی صفت ہے کہ جس کی عظمت کےلیے امام صادق ؑ کا یہ فرمان کافی ہے جب امام صادق ؑ کے سامنےء امام زمانہ کا ذکر کیا گیا تو امام ایک آہ بھرتے ہوئے فرماتے ہیں( لوادرکتہ لخدمتہ ایام حیاتی )۔اگر اس وقت زندہ ہوا تو پوری زندگی ان کی خدمت کروں گا (الغیبہ ،ص۲۴۵) اپنی اور معاشرہ کی تربیت حقیقی منتظرین وہ ہونگے جو اس ظلمت کے دور میں بھی نہ صرف اپنی تربیت اور حفاظت کریں گے بلکہ لوگوں کو بھی اللہ کے دین کی طرف دعوت دیں گے اور خدا اور امام کی اطاعت ان کا اولین شعار ہوگا امام سجاد ؑ فرماتے ہیں
(آے ابوخالد:لوگ اس امام کی غیبت کے زمانہ میں کہ جس کی وہ امامت کے قائل ہیں اور ان کے ظہور کے منتظر ہیں وہ ہرزمانے کے لوگوں سے افضل ہیں کیونکہ خداوندمتعال نے ان کو عقل وشعور اورایسی معرفت عطافرمائی ہے کہ جن کے نزدیک غیبت مثل مشاہدہ ہے (یعنی غیبت کے باوجو د ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی )
ان کو وہ مقام عطا کیاہے جو رسول اکرم ﷺکے برجستہ اصحاب کو عطا کیا ہے جنہوں نے اپنی تلواروں سے جھاد کیا ہے وہ حقیقی پیروکار سچے شیعہ اورخدا کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں (کمال الدین وتمام النعمہ ج۱،ص۳۱۹) رسول اکرم ﷺنے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا :اگر وہ مصیبتیں اورتکلیفیں جو (آخری زمانے کے شیعوں پر)آئیں گی اگر تم پیش آجائیں تو ان کی طرح صبر نہ کرپاوگے ۔ سچا انتظار پیغمبر اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :ہرگز دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ میری اہل بیت سے ایک مرد قیام کرے گا کہ جس کا نام مھدی ہوگا (منتخب الاثر ،ص۶۴۰)
ایک دن رسول اکرم ﷺکا یہ فرمان عملی طورپر سامنے آئے گا اگرچہ وقت کا علم صرف خداوند متعال کو ہے لیکن امام کے ظہور کے منتظرین کےلیے ہے کہ اپنے آپ کو امام کا سچا سپاہی بننے کےلیے آمادہ کرلیں۔ امام صادق فرماتے ہیں :جو شخص بھی امام زمانہ عج کا سپاہی بننے سے خوش ہوتا ہے تاکہ امام کا سپاہی بن جائے ضروری ہے کہ انتظار اور تقوا اور اچھے اخلاق کو اپنائے ایسا منتظر اور انتظار کرنے والا بن جائے کہ اگرچہ فوت بھی ہوجائے تو امام اس کو دوبارہ زندہ کرے وہ ایسا ہوگا جیسےکہ خود امام کی حکومت میں رہا ہو پس کوشش کرو اور انتظار کرو پس سلام ودرود ہو تم پر اور مبارک ہوتم کو آئے وہ افراد جس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے (الغیبہ ،ص۲۰۰) واقعا کتنا عظیم مقام اور بلند مرتبت ہے حقیقی منتظرین کی جن کا عمل ان کے قول کی تصدیق کرے جن کے اعمال میں اپنے امام کا عشق اور محبت نمایاں ہو واقعا قابل تحسین ہیں وہ لوگ واقعا اس لائق ہیں کہ ان پر کروڑوں درود وسلام بھیجے جائیں جن پر خود معصوم بھی درود بھیجے جن کی عظمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے خداوندا ہمیں بھی ان کے حقیقی منتظرین میں سے شمار فرما ہمارے نوجوانوں کو بھی امام کا سچا سپاہی بننے کی توفیق عطا فرما








