ایران فوبیا اور فیک نیوز — اسرائیل کی شکست چھپانے کی ناکام کوشش
شیعیت نیوز : ایران کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں ملی کاری شکست نے استعمار کو بوکھلا دیا ہے۔ غزہ میں نہتے بے گناہ شہریوں پر فضائی حملوں میں اضافہ اس کی ایک دلیل ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ غزہ پر کئے جانے والے حملوں سے ایران پر دباؤ ڈالا جاسکے۔
اسرائیلی فوجیں اس قدر نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ وہ انسانی امداد کے منتظر قطاروں میں کھڑے معصوم بچوں اور عورتوں پر بھی رحم نہیں کررہی ہیں۔ اسرائیل اپنی شکست کا غصہ اتارنے کے لئے ایران پر دوبارہ حملہ کرنا تو دور اب اس کے بارے میں سوچنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا، لہٰذا شکست کا سارا غصہ غزہ کے عوام پر اتارا جارہا ہے۔
گوکہ انسانی امداد کی ترسیل کے لئے ’محدود جنگ بندی‘ کا اعلان کردیا گیا مگر یہ جنگ بندی عالمی دباؤ سے بچنے اور اپنے مکروہ چہرے کو بہتر بنانے کے لئے ہے، کیونکہ اب بھی غزہ کی ضرورت کے مطابق انسانی امداد کی ترسیل نہیں ہورہی ہے۔ نتن یاہو کی ناکام جنگی پالیسیوں کے خلاف اسرائیل میں بڑے پیمانے پر آوازیں اٹھ رہی ہیں، عوام بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ اس بنا پر غزہ میں ’محدود جنگ بندی‘ کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اندرونی مخالفت پر قابو پایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں : رسول اکرمؐ کی وفات یا شہادت معتبر شیعہ و سنی ماخذ سے ثابت
اس طرح نتن یاہو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کا خواہاں ہے مگر حماس اس کے یرغمالوں کی رہائی پر آمادہ نہیں ہے لہٰذا ہمیں اپنے شہریوں کی آزادی کے لئے غزہ میں فوجی آپریشنز کے لئے مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ جب کہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ اسرائیلی فوجیں اب تک فوجی آپریشنز کے ذریعہ کسی بھی یرغمال کو رہا نہیں کرواسکیں۔ یرغمالوں کی رہائی جنگ بندی کے ذریعہ ہی ممکن ہوئی تھی اور اب بھی جنگ بندی کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل اپنی شکست کی ذلت کو چھپانے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے مگر اب رسوائی اس کا مقدر بن چکی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے فوراً بعد استعمار نے سرد جنگ کا نیا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ چونکہ اکثر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس، عالمی نیوز ایجنسیاں اور عوامی ذرائع ابلاغ پر استعمار کا تسلط ہے اس لئے ایران اور مزاحمتی محاذ کے خلاف سب سے زیادہ انہی پلیٹ فارمز کا استعمال ہورہا ہے۔
سوشل سائٹس پر فرضی ویڈیوز، تصاویر اور خبریں نشر کی جارہی ہیں۔ نیوز ایجنسیاں منصوبہ بند فرضی خبریں پلانٹ کررہی ہیں اور عوامی ذرائع ابلاغ کا منفی پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد سب سے پہلے یہ خبر پلانٹ کی گئی کہ آیت اللہ خامنہ ای ہزاروں فیٹ زیر زمین کسی خفیہ بنکر میں چھپے ہوئے ہیں۔ بعض نے تو ان کے زخمی ہونے تک کی افواہوں کو ہوا دی۔
ان خبروں کا سرچشمہ چند استعماری صحافتی ادارے ہوتے ہیں اور پھر پوری دنیا کی نیوز ایجنسیاں اور بڑے بڑے چینل اور اخبارات ان خبروں کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خبروں کی تشہیر کے لئے الگ الگ ملکوں میں موجود امریکی اور اسرائیلی سفارت خانے موٹی رقمیں خرچ کرتے ہیں بلکہ بعض ملکوں میں تو ان کے میڈیا ہاؤس بھی موجود ہیں۔
دوسرا اہم سبب دنیا میں بڑھتا ہوا ’ایران فوبیا‘ ہے جس نے فیک خبروں کی فیکٹری کو نئی زندگی دی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ خبریں ایران دشمنی میں پلانٹ کی جارہی ہیں جس میں استعماری میڈیا ہاؤسز کے علاوہ کئی مسلم ملکوں کے صحافتی ادارے بھی شامل ہیں جن کا فکری سرچشمہ ایک ہی ہے۔
دوسری فیک خبر یہ نشر کی گئی کہ "آیت اللہ خامنہ ای نشے کے عادی ہیں اور اس لت کے نتیجے میں وہ پورا دن سوتے رہتے ہیں۔” یہ خبر بھی استعماری نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ نشر کی گئی تھی جس کو پوری دنیا میں پھیلایا گیا۔
اس خبر کا مقصد مسلمانوں کو رہبر انقلاب اسلامی کی شخصیت سے برگشتہ کرنا تھا۔ کیونکہ بارہ روزہ جنگ کے بعد عالم اسلام میں آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور مسلمان انہیں اپنا عالمی قائد تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ استعمار ان کی شخصیت کی مقبولیت کے بڑھتے ہوئے گراف سے خوف زدہ ہے۔
ہندوستان میں بھی اس خبر کو بعض اخبارات اور نیوز چینلوں نے نشر کیا جس پر ایرانی سفارت خانے نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے انہیں فرضی خبریں پھیلانے پر تنبیہ کی۔ ’انڈیا ٹی وی‘ نے تو اس غلطی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی سفارت خانے کو وضاحتی مکتوب بھی ارسال کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی میڈیا پر استعمار کس قدر مسلط ہوچکا ہے۔
تیسری خبر یہ نشر کی گئی کہ ایران کا صدر مجبور اور کٹھ پتلی کی طرح ہوتا ہے کیونکہ ملکی معاملات کے تمام اختیارات رہبر انقلاب اسلامی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک فیک خبر تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایران میں صدر عوام کا منتخب کردہ اور جمہوری نظام کا ترجمان ہوتا ہے۔
البتہ رہبر انقلاب اسلامی کو ’ولی فقیہ‘ کی حیثیت سے سب پر برتری حاصل ہے اور کسی بھی اہم معاملے میں ان کے فیصلے کو حتمی سمجھا جاتا ہے۔ یہی تو اس نظام کی خوبی ہے جہاں صدر، وزیر اعظم اور دیگر عوامی نمائندوں کو من مانی کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا جیسا کہ دیگر جمہوری ملکوں میں دیکھا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ فیک اور پروپیگنڈہ خبروں کا ہے۔ اکثر میڈیا ہاؤسز پر استعماری طاقتوں کا قبضہ ہے لہٰذا کوئی خبر استعمار کے مفاد کے خلاف نشر نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے نقصان کی صحیح صورت حال اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔
استعماری نیوز ایجنسیاں اسرائیل کو ناقابل تسخیر قرار دیتی تھیں مگر جب اسرائیل پر پے درپے حملے شروع ہوئے تو اس کے نقصان کو چھپانے کی کوشش شروع ہوگئی۔ لہٰذا ایسی خطرناک صورت حال میں ضروری ہے کہ مسلمان اپنے میڈیا ہاؤسز تشکیل دینے کی طرف متوجہ ہوں۔
جب تک استعمار کے مقابلے کے لئے ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت نہیں کی جائے گی، آپ کی کامیابی بھی دنیا کو نظر نہیں آئے گی۔







