ٹرمپ کی دھمکی پر امتِ اسلام کی بھرپور مذمت، علامہ امین شہیدی کا سخت ردعمل
شیعیت نیوز : ایران کے ہاتھوں اسرائیل، امریکہ اور یورپ کی ذلت آمیز شکست کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی دنیائے اسلام کے عظیم رہنما آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کو جان سے مارنے کی دھمکی کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کا باعث ہے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ شیشے کے گھر کے مکین شاید ویتنام اور لبنان کو فراموش کر چکے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ امتِ اسلامیہ کی قیادت کو دھمکانے کا نتیجہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی سربراہان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنے کے مترادف ہیں۔
اگرچہ دینِ اسلام ہمیں تحمل اور بردباری کا درس دیتا ہے لیکن اسلامی اقدار و قوانین کی روشنی میں توہین اور دھمکیوں کا بھرپور اور دندان شکن جواب دینا بھی لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا لبنانی حکومت کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا الٹی میٹم
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھے اور خود کو مزید مشکل میں ڈالنے سے گریز کرے۔ آئندہ ایسے کسی بھی جارحانہ اقدام پر مسلم امہ خاموش نہیں رہے گی۔
ایشیا سے افریقہ تک امریکی اور مغربی مفادات کا محفوظ رہنا ناممکن ہوگا اور مزاحمتی فورسز کو عملی اقدامات سے کوئی نہیں روک پائے گا۔
اس کے نتیجے میں دنیا ایک نئی جنگ میں داخل ہو جائے گی، لہٰذا امریکی فیصلہ سازوں کو ایسے نالائق حکمران کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کی غیر دانشمندانہ گفتگو سے باز رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر منطقی اقدامات خود امریکہ اور اس کے دوست اقوام کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہیں۔
مغربی ممالک اسلامی و قرآنی تعلیمات سے ناآشنا ہیں، جس کے مطابق راہِ حق میں اپنی جان دینا اور دشمن کی جان لینا دونوں کو اعلیٰ و مقدس ترین عمل قرار دیا گیا ہے۔
واقعہ کربلا اس کی تاریخی اور زندہ مثال ہے جو 1400 برس گزر جانے کے بعد بھی ہر مسلمان کے دل کو گرماتی ہے۔







