رام اللہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سولہ سالہ فلسطینی نوجوان شہید
شیعیت نیوز: سولہ سالہ فلسطینی نوجوان قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں جمعہ کے روز ایک تصادم کے دوران پیش آیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے نوجوان کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
رام اللہ میں 300 سے 400 فلسطینی ایک احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع تھے۔ یہ احتجاج اس علاقے یہودی بستیوں کی تعمیر اور اندھا دھند توسیع کے خلاف تھا۔
اس دوران اس وقت ، یہودی آبادکاروں کے ہمراہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو دو طرفہ تصادم شروع ہو جانے پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں سولہ سالہ امجد نشات ابو علیا سینے میں گولی لگنے سے شہید ہو گیا۔
خیال رہے یہ واقعہ حالیہ دنوں کے نابلوس میں اسی نوعیت کے واقعے کے بعد دوسرا واقعہ ہے۔ نابلوس میں اتوار کے روز اس وقت دو فلسطینی شہید ہو گئے تھے جب اسرائیلی فوج نے صبح سویرے چھاپا مارا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو مسلح لوگوں کے ساتھ ایک مقابلے کا نام دیا تھا۔
ماہ مارچ کو اواخرسے اب تک کم از کم 53 فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد میں شہدا کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔ انہی میں امریکی شہری اور الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مخلص اور محب و طن قوتوں کوآگے بڑھ کرملک کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، علامہ راجہ ناصرعباس
دوسری جانب کینسر زدہ فلسطینی قیدی ناصر ابو حمید کی حالت سخت خطرے ہے۔ ابو حمید کی حالت چوتھی مرتبہ کیمو تھراپی کے بعد تیزی سے خراب ہوتی جارہی ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں نظر بند فلسطینیوں سے متعلق کمہیشن نے یہ بات بتائی ہے۔ ڈاکٹروں کی طرف سے بتایا گیا ہے ابو حمید کو اگلے مہینے کے شروع میں ایک بار پھر کیمو تھراپی کے لیے لے جایا جائے گا۔
کیمو تھراپی کے پانچویں دور کے بعد ابو حمید کے پھیپھڑوں کا معائنہ ہو گا کہ پھیپھڑے کیمو تھراپی کے بعد کس قدر بہتر ریسپانس کر رہے ہیں۔ اس وقت ابو حمید چل پھر سکتے ہیں نہ آسانی سے سانس لے سکتے ہیں۔ سانس لینے کے لیے ہر وقت آکسیجن سلنڈراستعمال کرنا پڑتا ہے۔
نظر بند فلسطینیوں کے لیے قائم کمیشن نے ان کی حالت اور زندگی کو لاحق خطرات کا ذمہ دار اسرائیلی جیلوں کے محکمے کو قرارا دیا ہے۔ کمیشن کے توسط سے ابو حمید نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ان کے معاملے میں مداخلت کریں تاکہ ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
49 سالہ ابو حمید رام اللہ میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ کے رہاشی ہیں اور 2002 سے اسرائیلی جیل میں ہیں۔ان کے بھائیوں کو بھی اسرائیل نے جیل میں بند کر رکھا ہے۔







