عین الاسد پر ایران کے میزائل حملے کے نقصانات سنسر کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، امریکی چینل
شیعیت نیوز: معروف امریکی چینل سی بی ایس نیوز نے حال ہی میں ایک تحقیق کے نتائج شائع کئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغداد کے قریب امریکی فوجی اڈے عین الاسد پر ایران کے میزائل حملوں میں زخمی ہونے والے دسیوں فوجیوں کو نہ تو شجاعت کا میڈل دیا گیا اور نہ ہی انہیں میڈیکل سہولیات فراہم کی گئیں۔
سی بی ایس نیوز چینل کے مطابق عین الاسد پر ایران کی جانب سے انجام پانے والا میزائل حملہ پوری تاریخ میں امریکی فوجیوں پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ تھا۔ ایران نے اس حملے میں گیارہ میزائل فائر کئے جن میں سے ہر ایک 1600 پاونڈ وار ہیڈ کا حامل تھا۔ اس حملے کے ایک عینی شاہد کیپٹن ڈین واساگر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میزائل حملے نے ہر چیز کو لرزا دیا، گویا پوری دنیا ہل رہی تھی۔
امریکی چینل کے مطابق یو ایس آرمی کو عین الاسد فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو چھپانے کا حکم دیا گیا تھا۔
معروف امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے نے بھی اس بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عین الاسد فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے سے ہونے والے نقصانات کو چھوٹے پیمانے پر اور کم اہمیت ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی وجہ سے اس حملے سے متاثر ہونے والے تمام امریکی فوجیوں کو شجاعت کا میڈل بھی نہیں دیا گیا اور انہیں میڈیکل سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب 2006 سے اسلامی مزاحمت کے خلاف جنگ لڑرہا ہے، سید حسن نصر اللہ
مشرق وسطی میں امریکی کمان سینٹکام کے ایک اعلی سطحی کمانڈر نے اس حملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ اگر ہم عین الاسد فوجی اڈہ خالی نہ کر چکے ہوتے تو ہمارے تیس یا تیس جنگی طیارے تباہ ہو جاتے جبکہ 100 سے 150 فوجی بھی مارے جاتے۔”
یاد رہے گذشتہ برس جنوری کے مہینے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف نبرد آزما سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراق میں حشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور انہیں شہید کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ایران نے شہید قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے اور جوابی کاروائی انجام دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے جوابی کاروائی کے طور پر بغداد کے قریب امریکی فوجی اڈے عین الاسد کو چند میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوا اور صرف چند امریکی فوجی ذہنی صدمے کا شکار ہوئے ہیں۔







