ایران نے سفارت کاری اور مذاکرات پر قائم رہنے کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے، ظریف

شیعیت نیوز: ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ہم مختلف بین الاقوامی میدانوں میں بہت سارے عالمی چیلنجز کا حل نکالنے بشمول حالیہ مہینوں میں جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں حصہ لینے سے سفارت کاری اور مذاکرات پر قائم رہنے کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار محمد جواد ظریف نے کل بروز منگل کو غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے وزرائے خارجہ کے ورچوئل اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم، جن عالمی چیلنجوں کا سامنا کررہے ہیں، انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مزید اجتماعی اقدامات کی ضرورت کو تقویت بخشی ہے۔ در حقیقت، کثیرالجہتی رویہ اپنانا، اب محتاط آپشن نہیں؛ بلکہ شدید عالمی بحرانوں کا واحد مناسب جواب سمجھا جاتا ہے۔
ظریف نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر وابستہ ممالک کی تحریک؛ ایک ممتاز بین الاقوامی پلیٹ فارم کی حیثیت سے، بین الاقوامی سطح پر یکطرفہ پن کے اضافے کے وقت میں عالمی تعاون بڑھانے کیلئے اچھے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی سیکورٹی فورس نے شمالی عراق میں داعشی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ
انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 عالمیگر وبا، انسانی نسلوں کی درمیان یکجہتی کا سب سے بڑا امتحان رہا؛ اس وبا نے ہمیں اس بات کی یاد دہائی کرائی کہ ہم کس قدر ایک دوسرے کے وابستہ ہیں اور ہماری اجتماعی صحت، خوشحالی اور سلامتی کیلئے بین الاقوامی تعاون کتنا اہم ہے۔
ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ اس وبا کو دوسرے معاملات کی طرح، ایک مضبوط مربوط بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ وہ جانچ، علاج اور ویکسین تک تیزی سے رسائی کو بڑھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مستحکم خارجہ پالیسی کی اساس کے طور پر کثیرالجہتی سے وابستگی کا مستقل مظاہرہ کیا ہے؛ اسی طرح، ہم مغربی ایشیاء میں تعاون اور پائیدار سلامتی کے مشترکہ وژن کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ظریف نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم یمن، شام اور افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں میں اقوام متحدہ سے تعاون کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی ریاست اور متحدہ عرب امارات کا سفارتی مشن فعال
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے تنازعات کے حل کے لئے جامع نقطہ نظر کے طور پرخلیج فارس میں ’’علاقائی مکالمہ فورم‘‘ اور’’ہرمز امن منصوبہ‘‘ کی تجاویز پیش کیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم مختلف بین الاقوامی میدانوں میں بہ سارے عالمی چیلنجز بشمول حالیہ مہینوں میں جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں حصہ لینے سے سفارت کاری اور مذاکرات پر قائم رہنے کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے
ظریف نے کہا کہ یکطرفہ پن اور بعض طاقتوں کی غنڈہ گردی کے ذریعہ کثیر جہتی کو کمزور کردیا گیا ہے اور اس کے نفاذ کو خطرہ ہے؛ امریکہ کی انتہائی یکطرفہ مہم جوئی ایک سب سے اہم چیلنج ہے جس کا سامنا تقریبا ہم سب نے کسی نہ کسی طور پر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو کمروز کر دیتی ہے اور پوری دنیا میں امن و استحکام کے خطے کو بڑھ جاتی ہے۔