واللہ نہیں بھولیں گے! 3 اپریل تاریخ پاکستان کا بدترین سانحہ، شناختی کارڈ دیکھ کر شیعہ قتل
شیعیت نیوز: 3اپریل 2012 کو وادی چلاس میںایسا دلخراش سانحہ پیش آیا جسکی یاد ابھی تازہ ہے اور جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے انسایت کانپ جاتی ہے، 7 سال گزر جانے کے باوجود یہ سانحہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا جبکہ ابھی تک اس سانحہ کے ذمہ داروں اور دھشتگردوں کو سزا نہیں ھوئی یہ سیاہ ترین وقعہ وادی چلاس گلگت میں پیش آیا جب اسکردو کی طرف جانے والی بسوں کو چلاس میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مقامی اور باہر سے آئے ہوئے دھشتگرد وں نے پلانگ کے تحت روک کر سواریوں کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے شیعہ مسافروں کی شناخت کرکے انہیںگولیوں سے بھون ڈالا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھشتگرد قاتلوں کے علاوہ کچھ دھشتگرد پتھر اور ڈنڈوں سے شہید ہونے والوں پر حملہ کرتےرہے، تقریبا تین سے چار گھنٹے تک کھلے عام دھشتگردآزادی سے اپنی کاروائی میں مصروف رہے، اس مقام پر تین دن تک لاشیں پڑی رھیں چوتھےدن شھدا کی لاشوں کو اسکردو پہنچایا گیاِ۔
سانحہ کی ویڈیو شواہد کے مطابق دہشتگرد سفاکیت کرتے وقت پاکستان کے معروف دیوبندی تبلیغی مولانا طارق جمیل کا بیان سن رہے تھے۔
سات سال بیت جانے کے باوجود ابھی تلک اس سانحہ میں ملوث دھشتگردوں کو سزا نہیں ہوسکی ، جبکہ ستم ظریفی یہ ہےقاتل اور انکے رہنما و سہولت کارابھی بھی چلاس میں کھلے عام جلسے جلوس کررہے ہیں۔
سانحہ چلاس کی ذمہ دار تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد رہنما نے چلاس کے ہی مقام پر گذشتہ سال خطاب میں کہا کہ تھا کہ ہم امن کی بات کرتے ہیں لہذا ہم نے چلاس کی عوام کو شناختی کارڈر دیکھ کر مارنے اور حملہ کرنے سے روک دیا ہے، یہ جلسہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ جو کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق رہنما ہیں کی حمایت اور امداد سے کیا گیا اور اس دہشتگرد کو جسکے سرپر 12 معصوم شہداء کا خون ہے اُسے سرکاری پروٹوکول بھی دیا گیا۔
کالعدم سپاہ صحابہ اور اسکا دہشتگرد رہنماء چاہئے کتنی ہی امن کی بات کرلیں لیکن اسکے دامن میں 3 اپریل 2012 کا سیاہ داغ نمایاں ہے۔







