شام ،دنیا کے مستقبل کے فیصلے کا میدان

12 اپریل, 2018 09:15

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی انتہائی عمیق تجزیاتی گفتگو اور انکشافات
اس وقت دہشت گردی کا بلاک بہت بڑے چیلنج کا شکار ہے اس کی وجہ شامی فوج کا مشرقی غوطہ کے اہم اسٹریٹجک علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کروا کر دہشت گرد بلاک کے آئندہ کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہے ۔
مشرقی غوطہ میں دہشت گردوں کا قبضہ دہشت گرد بلاک کے پاس شامی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کا بہت بڑا ہتھیار بھی تھا اور ان کے نئے منصوبے جن میں پھر سے شامی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر جنوب کے علاقے سے حملوں کا آغاز تھا ۔
ان حملوں سے شامی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ،دھشت گردوں اور اپنے اتحادیوں کو بالعموم اور اسرائیل کو بالخصوص حوصلہ دینا تھا ۔
شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اس خطرناک سازش کو بھانپتے ہوئے شام کے جنوبی علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے لئے مشرقی غوطہ سے آپریشن کا آغاز کر دیا ۔
جس دہشت گرد بلاک کو سخت دھچکا لگا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ شامی فورسز مشرقی غوطہ میں کیمیکل اسلحہ استعمال کرنے والی ہیں تا کہ شامی فوج کی پیشقدمی کو روکا جا سکے ۔
(یاد رہے کہ غوطہ کے علاقے میں ہھشت گردوں کی مدد کے لئے امریکی،فرانسوی، برطانوی اسرائیلی اور اردن سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی موجود تھے )۔لیکن دہشت گرد شامی فوج کے حملوں کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور غوطہ چھوڑ کر النصرہ اور فیلق الرحمان وغیرہ سے تعلق رکھنے والے دھشت گرد ادلب اور دوما میں موجود جیش الاسلام (جو کہ سعودی فنڈڈ ہیں ) جرابلس جانے کو تیار ھو گئے ۔
جیش الاسلام نے پہلے یہ شرط رکھی کہ انہیں اپنے سارے اسلحے سمیت (جس میں بھاری اسلحہ بھی تھا یعنی ٹینک توپخانہ ،بکتر بند گاڑیاں ، ٹینک شکن میزائل، اینٹی ائر کرافٹ گنیں ، وغیرہ)مشرقی قلمون جانے کی اجازت دی جائے ۔
شامی حکومت نے دہشت گردوں کے اس مطالبے کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ آپ نہ تو بھاری اسلحہ ساتھ لے جا سکتے ھیں اور نہ ہی مشرقی قلمون کے علاقے میں جا سکتے ہیں۔
چونکہ مشرقی قلمون کاعلاقہ شام کے دہشت گردوں کے خلاف آئندہ کی جنگی حکمت عملی میں بہت اہمیت رکھتا ھےلہذا دہشت گردوں کو جرابلس جانے کی اجازت دے دی گئی ۔
شام کے بعض باخبر فوجی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ "مشرقی غوطہ کو دہشت گردوں سے مکمل پاک کرنے کے بعد شامی فوج دمشق کے اس جنوبی علاقے کی طرف بڑھےگی جس کی مساحت 12 مربع کلو میٹر ھے ۔اور یہ "یلدا، بیت سحم ، الحجر الاسود، مخیم الیرموک، ببیلا،القدم کے چھوٹے چھوٹے شہروں پر مشتمل ھے ۔
یہاں مخیم الیرموک،حجر الاسود اور حی الزین کے کچھ علاقوں پر داعش کا قبضہ ہے اور باقی دوسرے مذکورہ بالا علاقوں پر کچھ اور دہشت گردوں کا کنٹرول ہے ۔
مذکورہ علاقے سے شام کے دارالحکومت دمشق پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا جا سکتا ہے اور یہ آخری علاقہ ہے کہ جہاں سے دمشق کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔
لہذا اس لئے شامی فوج غوطہ کے بعد سب سے پہلے اس کو آزاد کروائے گی جس کے بعد شامی دارالحکومت بطور کلی مارٹر حملوں سے محفوظ ھو جائے گا ،اس کے بعد جنگ شامی دارالحکومت سے دور کے علاقوں میں منتقل ہوجائے گی اور اس میں شام کے جنوبی علاقے بہت اہم ہیںجس سے اسرائیل سمیت امریکہ سب پریشان ہیں ۔
لہذا دہشت گرد بلاک کی پوری کوشش ھے کہ ان فتوحات کا راستہ روکے یا انہیں slow کر دے ،شامی حکومت ،فوج اور عوام کے حوصلے توڑ دے انہیں خوف زدہ کرے ۔
البتہ گزشتہ سات سال کی جنگ نے انہیں ہر قسم کے مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ اور تیار کر دیا ہے ۔
اس وقت شامی افواج اگلے مرحلےجنگ شام کے جنوبی علاقے (جو اسرائیل اور اردن سے جڑے ہوئے) کی طرف لے جائیں گی جہاں مشرقی القلمون کا علاقہ بہت اہم ہے۔
جہاں تقریبا 800 مربع کلو میٹر علاقے پر دہشت گردوں کا قبضہ ہے ۔
قلمون اور قنیطرہ کے علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا اسرائیل کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ۔
شامی فورسز مقاومت کے ساتھ مقبوضہ فلسطین کےبارڈر پر پہنچ جائیں گی اور یوں جنوبی لبنان سے لیکر شام تک (اسرائیل کے اندر ) الجلیل کا سارا اسٹریٹجک علاقہ مقاومت کے نشانے پر آجائے گا ۔
سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں الجلیل کے علاقے کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کروانا ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کی ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے ۔ بہرحال اس وقت مقاومت کی پہلی ترجیح شام کے جنوبی علاقے کو دہشت گردوں سے آزاد کروانا ہے اور پھر شمالی حمص کے کچھ علاقے (الرستن ،تلبیسہ اور اس علاقے کے دیہات اور گاؤں ) اسی طرح ادلب ،رقہ اور التنف کے علاقے کی باری ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ جنگ شامی پایہ تخت اور اس کے ہم شہروں سے دور ہوکراسرائیل،اردن اور ترکی کی سرحدوں تک پہنچ جائے گی ۔
یوں آئندہ دو سال تک شام میں بڑی حد تک استحکام آ جائے گا امریکی اور اسرائیلی چاہتے ہیں کہ یہ جنگ جلدی ختم نہ ہوشامی حکومت اور اس کے حامیوں پر دباؤ باقی رہے ۔
جوں جوں جنگ شامی دارالحکومت سے دور کے علاقوں اور ہشت گرد بلاک کے علاقائی ممالک کی سرحدوں کے قریب منتقل ہوتی جائے گی اتنا ہی دہشت گرد بلاک اور دہشت گردوں پر دباؤ بڑھتا چلا جائے گا ۔
دہشت گردوں کے حوصلے ٹوٹ جانا اس دہشتگردبلاک کے ممالک کے لئے afford able نہیں ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ’’ شام میں دنیا کے مستقبل کے نظام کا فیصلہ ہونا ہے‘‘ ۔
شام میں امریکی hegemony کے خاتمے یا باقی رہنے کا فیصلہ ہونا ہے،دنیا کا مستقبل اس وقت شام میں لکھا جارہا ہے۔
کیمیکل اسلحے کے استعمال کا سفید جھوٹ سب کے سامنے ایک کھلی حقیقت کے طور پر موجود ہے ۔
اس سے دہشت گرد بلاک کی بوکھلاہٹ واضح اور سب پر عیاں ہے،یوں لگتا ہے کہ عالمی استکبار کے اقتدار کی ناؤ ڈوبنے کو ہے ۔
اس سے پہلے بھی امریکہ جھوٹ بول کر دنیا کے مختلف ممالک پر جنگ مسلط کر چکا ہے اور ان ممالک کو برباد کر کے بچ کر نکل جاتا رھا ہے لیکن اب کے بار امریکہ کا اس معرکہ سے بچ نکلنا بظاہر ناممکن لگ رہاہے ۔
ڈونلڈ ٹرامپ،نتن یاہو،محمد بن سلمان جیسے احمق دہشت گردی کے بلاک کےفرنٹ مین ہیں۔
الحمد للہ الذی جعل اعدائنا من الحمقاء ۔جو فیصلہ بھی لالچ اور خوف کی حالت میں کیا جائے وہ فیصلہ ہمیشہ ناقص ہوتاہے اور عالمی استکباری نظام کی سب بڑی خامی لالچ ہے (چونکہ materialistic سوچ رکھتے ھیں ) جو اپنے ساتھ خوف کوبھی لاتا ہے ۔
جب لالچ اور خوف کے سائے میں فیصلے ہوتے ہیں تو اس میں خطا اور غلطی کا امکان بڑھ جاتا بے کیونکہ لالچ اور خوف بسااوقات اپنے ساتھ جلد بازی کو بھی لے آتا ہے ۔
شام پرممکنہ امریکی حملے کی راہ میں چند اھم رکاوٹیں
1۔اس سے یقینا اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بڑا خطرہ ناگزیر
2۔ امریکہ کے فوجی اڈوں پرحملے کا خطرہ
3۔ حملے کی صورت میں کامیابی کے امکانات کا بہت کم ھونا
4- حملے کا شروع کرنا تو ان کے ہاتھ میں ہے کیا اس کو ختم کرنا بھی اختیار میں ھو گا؟
اسی طرح فرانس کایہ کہنا کہ وہاںں حملہ کیا جائے جہاں کیمیائی اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں ھیں جبکہ شام ایسی کوئی فیکٹری نہیں اس کا مطلب ہے کہ فرانس دل سے حملے کا ساتھ نہیں ۔
سویڈن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر ہم حملے کے خلاف ہیں ۔
پوٹین کا نتن یاھو کو آج شام ٹیلی فون کر کے یہ کہنا کہ خود کو جنگ سے دور رکھو نہیں تو پھر اسرائیل آگ کے شعلوں کی جہنم میں جلے گا ۔
پوٹین نے نتن یاھو کو یہ نہیں کہا کہ میں request کرتا ہوں یا پلیز ایسا نہ کریں وغیرہ بلکہ صاف اسرائیل کے جہنم بن جانے کی بات کی ہے ۔
یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو امریکہ کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں ۔
الحمد للہ ٹرامپ کے ٹوئیوٹری غبارےسے دھڑام کے سات ہوا نکل گئی بظاہرکیمیائی اسلحے کے استعمال کا جھوٹ بھی فائدہ نہ پہنچا سکا جسکا مقصدعالمی برادری خصوصا نیٹو ممالک کی مددمہیاکرنا تھا۔
موجودہ صورتحال ور جنگ کے تین سیناریو
اس وقت جنگ کے حوالے سے تین سیناریو بن سکتے ہیں
1۔ چند میزائیل مار یے جائیں ، یعنی انتہائی ابتدائی لیول کا حملہ۔
2۔درمیانی درجے کا حملہ جس میں شام اور مقاومت کی دفاعی طاقت کو کمزور کیا جائے ،جس سے شامی فوج کی ہجومی طاقت ٹوٹ جائے اورشام کی فوج مزید علاقوں کہ طرف نہ بڑ سکے بلکہ اس میں خوف اور ڈر کی نفسیاتی کیفیت پیدا ہو جائے ،دہشت گردوں کو حوصلہ ملے اور نتیجہ بشار الا اسد کی حکومت کمزور ہوجائے اور اسرائیل کے لئے موجود چیلنج اور خطرہ دور ہو جائے۔
3۔ لیبیا کی طرز پر حملہ کیا جائے ،جس میں گراؤنڈ فورسز بھی استعمال ہوں اور بحری اور ہوائی فوج بھی۔
مطلب ایک بڑی جنگ شروع کرکے بشار الاسد کی حکومت ختم کر دی جائے ۔
اب آپ زمینی حقائق اور دنیا کے حالات سامنے رکھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں دہشت گرد بلاک کس آپشن پر عمل کر سکتا ہے ۔
ساتھیو ۔میں پھر سے کہہ دوں’’یہ بات ذہن نشین رہے کہ شام میں دنیا کے مستقبل کے نظام کا فیصلہ ہونا ہے ‘‘
وہ مقاومت جس نے دہشت گردی کے مگرمچھ کے منہ میں ہاتھ ڈال کر شام کو اس سے چھینا ہےکیا اب وہ اس حساس اور فیصلہ کن مرحلے پر خاموش رہے گی ؟
میرے خیال میں مقاومت کا بلاک ہمیشہ سے زیادہ آج متحد ، طاقتور اور تیار ہے ۔
جبکہ دہشت گرد بلاک پہلے کی نسبت آج اندر سے بکھرا ہوا، الجھا ہوا،اور کمزور ہے لہذا کسی کو شک نہیں رہنا چاہیے کہ مقاومت شام کو تنہا چھوڑ دے گی اور ایران مقاومت کا اہم ستون ہے ۔
کیا امریکہ وغیرہ ایک بڑی جنگ شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے؟۔
بالفرض اگر شروع کر بھی دیں کیا اسے جاری رکھنے کی بھی پوزیشن رکھتاہے؟ ۔
چونکہ شام لیبیا تو نہیں پھر یہ جنگ صرف شام تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے مغربی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جس میں اسرائیل بحرین سعودی عرب کویت وغیرہ سب شامل ہیں۔
یوں اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے گے ۔

11:30 صبح مئی 2, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔