بھارت حملہ کیوں نہیں کر سکتا!

24 ستمبر, 2016 00:00

اوڑی فوجی ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گرد حملہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں اگرچہ بھارت نے اپنی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف جنگ کےلئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا لیکن نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت ابھی تک اس بارے میں گومگو کا شکار ہے۔ تند و تیز بیانات اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت نے خود کو سیاسی لحاظ سے نہایت مشکل صورتحال میں پھنسا لیا ہے۔ ایک طرف کسی ثبوت اور تصدیق کے بغیر پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے، یہ تک کہہ دیا گیا کہ حملہ آوروں کے پاس پاکستانی اسلحہ ، خوراک کے ڈبے اور جی پی ایس تھے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان سے حملہ کی نیت سے بھارت آئے تھے۔ پاکستان کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کئے جانے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ 20 ستمبر کو اوڑی سیکٹر میں پاکستان سے بھارت آنے والے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ اس دوران وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بات کی ہے اور اکثر مبصرین کے خیال میں پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش دہرا کر انہوں نے بھارتی سیاستدانوں اور سفارت کاروں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر اقوام متحدہ میں اس کے نمائندوں کے پاس اب مذاکرات سے مسلسل انکار کےلئے ایک ہی دلیل ہے کہ پاکستان سے اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے ہوئے ہے۔ یعنی بھارتی دعوے کے مطابق کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھے گا جسے بھارت دہشت گردی کی حمایت قرار دیتا ہے ۔ اوڑی حملہ کے بعد بھارتی نمائندوں نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینا شروع کیا ہے لیکن دنیا اس کے ان بے بنیاد الزامات کو ماننے یا ان کی بنیاد پر پاکستان کو تنہا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اگرچہ بھارتی میڈیا، پاکستان کے بعض مبصرین کی طرح تواتر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پاکستان اس وقت پوری دنیا میں تنہا ہو گیا ہے اور ہر ملک نے اس کے موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کو اوڑی حملہ سے پہلے بھی افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا۔ امریکہ پندرہ سال جنگ کرنے کے بعد طالبان کو شکست دینے یا مذاکرات پر آمادہ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے سارا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستانی علاقوں سے افغانستان میں کارروائیاں کرتا ہے۔ اس طرح پاکستان پر اس پالیسی کے خلاف دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ طاقتور بھارتی لابی بھی واشنگٹن میں پاکستان کے خلاف فضا تیار کرنے میں متحرک ہے، اس لئے کبھی پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی ترسیل روکنے کا اقدام ہوتا ہے اور کبھی فوجی امداد کو جزوی طور پر روکا جاتا ہے۔ بھارت نواز امریکی کانگریس کے ارکان بھی اکثر پاکستان کےخلاف بلند بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے پاکستانی حلقے بھی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ پاکستان سفارتی دنیا میں بالکل تنہا ہو چکا ہے۔
صدر باراک اوباما کی حکومت اپنے آخری چند ماہ پورے کر رہی ہے۔ اس طرح صدر اوباما کوئی نہ کوئی ایسا قدم اٹھانا چاہتے ہیں کہ تاریخ میں ان کی حکومت کو اس کارکردگی کی بنیاد پر یاد رکھا جائے۔ وہ افغانستان میں مذاکرات شروع ہونے کی امید کھو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کو مذاکرات شروع کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کےلئے کوئی معاہدہ کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کو یمن میں جنگ کرنے اور ایک نئے انسانی المیہ کا سبب بننے سے بھی نہیں روک سکے۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے بعد لیبیا میں کرنل قذافی کی مستحکم حکومت کو گرا کر ایک مزید ملک میں انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کی ذمہ داری نیٹو کے علاوہ امریکی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ کارروائی صدر باراک اوباما کے دور میں ہوئی ہے، اس لئے انہوں نے عراق میں صدر جارج بش کے جنگی اقدام کے خلاف جو موقف اختیار کیا تھا، وہی دلائل لیبیا کو غیر مستحکم کرنے کے بارے میں اوباما حکومت کے خلاف دیئے جا رہے ہیں۔ برطانیہ میں حال ہی میں سامنے آنے والی ایک پارلیمانی رپورٹ میں لیبیا میں نیٹو حملوں کو سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ حملے نامناسب اور نامکمل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے گئے تھے اور اس بات کا جائزہ لینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی کہ قذافی حکومت ختم ہونے کے بعد انتہا پسند قوتیں اس ملک پر قبضہ کر سکتی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت داعش اور القاعدہ سمیت متعدد دہشت گرد گروہ لیبیا میں اقتدار حاصل کرنے کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔
امریکہ نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف ایک پرامن تحریک کو عسکری جدوجہد میں تبدیل کرنے کےلئے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس جنگ کے 5 برس کے دوران صدر باراک اوباما مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ صدر بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا لیکن یہ موقف اختیار کرنے کےلئے ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ امریکی حکومت کی یہ خواہش مشرق وسطیٰ میں ایران اور روس کا اثر و رسوخ محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔ تاہم جب گزشتہ برس روس نے دن بدن کمزور ہوتی بشار حکومت کی حمایت اور روز افزوں قوت پکڑتی داعش کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو شام کی سیاسی اور فوجی صورتحال تیزی سے تبدیل ہونے لگی۔ بشار الاسد کی فوج کو نیا اسلحہ اور امداد ملنے سے اس نے امریکہ اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ باغی گروہوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی داعش کو دفاعی پوزیشن پر جانا پڑا۔ امریکہ ، روس کے ساتھ مقابلے بازی میں اس ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل کرنے کےلئے آمادہ نہیں ہے کہ بشار الاسد کے خلاف جنگ بند کرکے داعش جیسے خطرناک دہشت گرد گروہ کا خاتمہ کیا جائے۔ اس جنگ میں درمیانی راستہ نکالنے کےلئے روس کے ساتھ مل کر شام کی سرکاری افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا نیا معاہدہ کروایا گیا تھا تاکہ صدر اوباما یہ کہتے ہوئے اقتدار سے علیحدہ ہوں کہ انہوں نے شام کی خانہ جنگی ختم کروانے کےلئے بنیاد فراہم کر دی ہے۔ لیکن یہ معاہدہ عارضی ثابت ہوا کیونکہ جنگ بندی کے چند روز بعد ہی امریکی طیاروں نے شام کی فوج پر حملہ کر کے 80 فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ اب روس کو صورتحال خراب کرنے کا ذمہ دار قرار دینے کےلئے یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ روسی طیاروں نے حلب میں امدادی قافلے پر حملہ کیا ہے۔
ان حالات میں صدر باراک اوباما کی حکومت کےلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بدترین خبر ہوگی۔ اس لئے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں نہ تو اس بات پر تشویش کا شکار ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں اور نہ ہی کوئی بھارت کے اس جارحانہ موقف کو ماننے کو تیار ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور اسے دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے۔ واشنگٹن سمیت دیگر دارالحکومتوں میں البتہ اس بارے میں ضرور تشویش پائی جاتی ہے کہ برصغیر کے ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ملکوں کے درمیان مسلح تصادم کو روکا جا سکے۔ خاص طور سے امریکہ کےلئے یہ صورتحال دو وجہ سے زیادہ پریشانی کا سبب ہے۔ اول یہ کہ صدر باراک اوباما نے اپنے دور حکومت میں بھارت کو حلیف بنانے اور اس کے ساتھ مل کر بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں چین کا ’’محاصرہ‘‘ کرنے یا اس کا راستہ محدود کرنے کےلئے پیش رفت کی ہے۔ اس لحاظ سے بھارت سے قریبی تعلقات اور دوستی امریکہ کو صدر اوباما کا اہم ترین تحفہ ہے۔ لیکن اگر ایسا حلیف ملک جسے چین کی معاشی اور اسٹریٹجک قوت کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پاکستان جیسے چھوٹے ہمسایہ ملک پر حملہ کرنے کی حماقت کرے گا تو اوباما حکومت کا بھارت کے ساتھ مل کر چین کے خلاف محاذ بنانے کا منصوبہ منہ کے بل آ گرے گا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی قیمت پر پاکستان سے قطع تعلق کرنے یا اسے مکمل طور سے تنہا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ افغانستان میں حالات کو کنٹرول کرنے کےلئے اب بھی پاکستان کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عام لوگوں کو سنانے کے لئے مخالفانہ بیانات دینے کے باوجود امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ طالبان کی جس قوت کو اتحادی افواج پندرہ برس کے دوران کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں، انہیں پاکستان تن تنہا کس طرح امریکی شرائط ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اس دوران بھارت کشمیر میں اپنی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے اور افغانستان کے صدر اشرف غنی اپنے ہی ملک میں سیاسی بے چارگی کی بنا پر پاکستان پر الزام تراشی کرکے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حالات خراب کرنے میں ان کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ البتہ پاکستان پورے خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ پاکستانی فوج نے تن تنہا اور مسلسل الزام تراشی کے ماحول میں بھی گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستانی فوج آپریشن ضرب عضب کے ذریعے موثر فوجی اقدامات نہ کرتی تو داعش جیسا گروہ جو امریکہ کی سنگین غلطیوں کی وجہ سے دولت اسلامیہ کے نام سے شام اورعراق کے علاقوں میں اپنی حکومت قائم کر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی مضبوط گروہ استوار کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ اگرچہ پاکستان کی جنگ صرف تحریک طالبان پاکستان تک محدود رہی ہے لیکن متعدد عالمی ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاک فوج بیک وقت اس علاقے میں پروان چڑھنے والے سب عسکری گروہوں ، خاص طور سے افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ بھارت نے جس طرح امریکہ کی مدد سے افغانستان میں پاؤں جمائے ہیں اور کابل کے ساتھ اپنے تعلقات کو پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کےلئے استعمال کیا ہے، اس صورتحال میں پاک فوج کی طرف سے سب گروہوں کے خلاف یکساں شدت سے کارروائی کرنے کے امکانات محدود کردیئے گئے ہیں۔ پاکستان سب سے پہلے اپنی سلامتی کے تقاضے پورے کرنا ضروری سمجھے گا۔
تاہم اس دوران ماضی میں کی گئی غلطیاں اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں سیاسی اختلافات کو طاقت سے دبانے کی حکمت عملی پاکستان کےلئے مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اسی لئے بھارت بار بار بلوچستان میں انسانی حقوق اور ’’آزادی کی تحریک‘‘ کی بات کرتا ہے۔ اور ماضی میں بھارت کے خلاف جہاد کرنے والے بعض گروہوں کی پاکستان میں موجودگی کو پاکستان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اگر اس بارے میں پاکستان سے کوئی تقاضہ کرے گا تو اسے مقبوضہ کشمیر میں تقریباٌ تین ماہ سے جاری تحریک اور بھارتی افواج کے مظالم کے بارے میں پاکستان کا موقف بھی سننا پڑے گا۔ ان حالات میں امریکہ اور خاص طور سے اپنی صدارت کے آخری ماہ پورے کرنے والے صدر اوباما کے لئے بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو اشتعال انگیزی سے باز رہنے کی تلقین کریں۔
بھارت، امریکہ کی مرضی کے بغیر پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ اگر اس نے یہ حماقت کی تو امریکہ کے ساتھ مل کر دنیا کی نمایاں اور بڑی طاقت بننے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔بشکریہ ہم سب نیوز

10:09 شام جون 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔