دہشتگرد قرار دینے والا امریکی سافٹ ویئر
ترتیب و تنظیم: آئی اے خان
یوں تو نام نہاد عالمی طاقت امریکہ کا دامن بے گناہوں کے لہو سے ہمیشہ ہی داغدار رہا ہے، تاہم نائن الیون کے بعد گناہ سے پہلے سزا کی پالیسی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ اس پالیسی کے تحت ہر امریکی حملے کا نشانہ بننے والے ہر شخص کو دہشت گرد قرار دینے کی حتی الوسعی کوشش کی گئی، تاکہ قاتل کو ہی مسیحا قرار دیا جاسکے۔ اس امریکی پالیسی کا ہلکا کا ایک عکس امریکی ڈرون حملوں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی حدود میں امریکی ڈرون حملے ہمیشہ سے انتہائی متنازعہ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف انہیں پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر بے گناہ انسانوں کے قتل کا سبب قرار دیا جاتا رہا ہے، وہیں امریکا کی طرف سے انہیں دہشت گردوں کے خلاف درست ترین ہتھیار قرار دے کر ان کا دفاع کیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ڈرون حملوں میں بے گناہوں کی ہلاکت سے متعلق پہلے بھی متعدد رپورٹیں سامنے آچکی ہیں، لیکن امریکی سکیورٹی ایجنسی ”این ایس اے“ کے باغی جاسوس ایڈورڈ سناؤڈن کی طرف سے افشاء کی جانے والی دستاویزات کے ایک تازہ ترین تجزئیے نے انتہائی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
ویب سائٹ Ars Technica UK کی ایک رپورٹ میں آن لائن جریدے ”دی انٹرسیپٹ“ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا پاکستانی شہریوں کی دہشت گردی کے حوالے سے درجہ بندی کرنے کے لئے ایک خصوصی سافٹ وئیر پروگرام استعمال کر رہا ہے۔ جسے سکائی نیٹ (SKYNET) کا نام دیا گیا ہے۔ جریدے ”دی انٹر سیپٹ“ نے پروفائلنگ کے لئے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پروگرام کے متعلق گذشتہ سال کی تفصیلات شائع کیں۔ جن میں بتایا گیا کہ یہ پاکستان میں موبائل فون صارفین کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے جمع شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں۔ باالفاظ دیگر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقیم شہریوں کو زندہ رہنے کیلئے اس سافٹ ویئر کو مطمئن کرنا ہوگا۔ جریدے کا کہنا ہے کہ بظاہر سال 2011ء اور 2012ء سے متعلقہ ڈیٹا کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ پاکستانیوں کی موبائل فون کمیونیکیشن کا تجزیہ کیا گیا، تاکہ ان کے دہشتگردی کے ساتھ تعلقات کا پتہ چلایا جاسکے۔
ادارے ”ہیومن رائٹس ڈیٹا انیلسز گروپ“ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان پیٹرک بال کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا سکائی نیٹ سافٹ ویئر مضحکہ خیز حد تک ناقابل اعتبار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر موبائل فون صارفین کی لوکیشن، دیگر افراد کے ساتھ روابط، مختلف علاقوں میں نقل و حرکت، اور سم اور ہینڈ سیٹ تبدیل کرنے جیسے 80 مختلف عوامل کی معلومات جمع کرتا ہے اور ان کے تجزئیے کے بعد کسی بھی شخص کو دہشت گرد یا معصوم قرار دیتا ہے۔ ڈیٹا انیلسز ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک مشکوک سافٹ وئیر کروڑوں انسانوں کی موبائل فون کمیونیکیشن کا تجزیہ کرکے ان کے دہشت گرد ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر رہا ہے، اور ان میں سے ہزاروں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 2004ء کے بعد تقریباً ایک دہائی کے دوران اڑھائی سے چار ہزار افراد کو ڈرون حملوں میں ہلاک کیا گیا۔ ان افراد کو دہشت گرد قرار دے کر موت کے گھاٹ اتارنے کے فیصلے میں سکائی نیٹ سافٹ ویئر نے بنیادی کردار ادا کیا، جس کے طریقہ کار اور درستی پر خود امریکی ماہرین نے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
اس سافٹ ویئر کی قابلیت اور درستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے تفصیلی تجزیے کے بعد پاکستان میں مقیم الجزیرہ ٹی وی کے بیوروچیف احمد زیدان کو دنیا کا مطلوب ترین دہشت گرد قرار دے دیا۔ احمد زیدان اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں اکثر لاہور اور پشاور کا سفر کرتے رہے اور اس دوران مختلف تنظیموں سے وابستہ لوگوں کے انٹریو بھی کرتے رہے۔ سکائی نیٹ سافٹ ویئر نے ان کی موبائل کمیونیکیشن کی نگرانی اور تجزئیے کے بعد فیصلہ دیا کہ وہ مطلوب ترین دہشت گرد ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ڈرون حملوں کا فیصلہ سکائی نیٹ جیسا پروگرام کر رہا ہے تو اس بات میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں مارے جانے والے ہزاروں افراد میں بے گناہوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جن کا جرم صرف اتنا تھا کہ ایک کمپیوٹر پروگرام نے انہیں دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔








