این اے 250پر ہونے والی ری پولنگ کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔علامہ امین شہیدی

18 مئی, 2013 22:11

ameenاین اے 250پر ہونے والی ری پولنگ کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہیں،الیکشن 2013ء تاریخ کی دھاندلی کے نئے عالمی ریکارڈ قائم ہوئے جس میں الیکشن کمیشن براہ راست ملوث ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد کردہ امید وار برائے صوبائی اسمبلی پی بی 2پر آغا رضا کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔ پی پی 82جھنگ سے اظہر کاظمی اور پی پی 245میں زوار خادم حسین کو کامیابی حاصل ہو چکی تھی تاہم نتائج کو یکسر تبدیل کردیا گیا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ ۔علامہ امین شہیدی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ ہم اس سوچ اور فکر کے ساتھ عام انتخابات میں وارد ہوئے تھے کہ ملک پاکستان کو مستحکم کرنے اور پاکستان پر عالمی طاقتوں کے دباؤں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عالمی دہشت گرد طاقتوں امریکہ،اسرائیل سمیت دیگر کے چنگل سے آزاد کروایا جائے گا ۔لیکن عالمی طاقتوں کے پے رول پر کام کرنے والے عناصر یہ نہیں چاہتے کہ مستحکم پاکستان کی تعمیر کی جائے جس کا نتیجہ انتخابات کے نتائج کی صورت میں سامنے آ چکا ہے کہ ایک مخصوص اور محدود سوچ رکھنے والے گروہوں کو انتخابات میں کامیاب کروایا گیا ہے جس کے لئے ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پا ک محرم ہال سولجر بازار میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ محمد حسین کریمی، علامہ دیدار علی جلبانی،آصف صفوی شاکر علی راؤجانی، علی حسین نقوی اور کاظم راجیہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ آپ کے علم میں ہے کہ گیارہ مئی کو ملک بھر میں عام انتخابات منعقد کئے گئے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان انتخابات کو شفاف نہیں بنایا جا سکا جس کے سبب ملک بھر میں موجود پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کی نہ صرف زبانی شکایات موصول ہوئیں بلکہ سوشل میڈیا پر ایسی درجنوں ویڈیو فوٹیج موجود ہیں کہ جس میں مختلف افراداور خود سیاسی جماعتوں کے متعدد امیدوار انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔پاکستان کی کوئی ایسی جماعت نہیں ہے کہ جس نے ملک کے گوش وکنار میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نہ لگائے ہوں ،فاٹا سے لے کر کراچی تک آج بھی میڈیا پر متعدد شواہد دکھائے جا رہے ہیں کہ جس سے واضح ہو رہا ہے کہ ملک بھر میں کس طرح دھاندلی کی گئی ہے۔پنجاب کے تقریباً تمام شہروں میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔
ملک بھر کی طرح شہر کراچی میں بھی آپ نے مشاہدہ کیا کہ کراچی کے سیکڑوں پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل کو روکنے کی گھناؤنی سازش کی گئی جس کے سبب شہر میں پولنگ کا سلسلہ دوپہر ایک بجے اور دو بجے شروع ہوا تو کہیں انتہائی سست روی کے ساتھ پولنگ کے عمل کو چلایا گیا تا کہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کر سکیںأشہر کراچی میں جہاں ایک طرف پولنگ کے عمل کو روکنے اور سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا تی رہیں وہاں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے کارکنوں کو زدو کوب کئے جانے کے ساتھ ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں جوکہ شرمناک اور نا قابل معافی فعل ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد کردہ امید وار برائے حلقہ این اے 252 کے امیدوار مولانا حسین کریمی کو زدو کوب کیا گیا اسی طرح پی ایس 117کے امیدوار شاکر علی راجانی کے نامزد کردہ چیف پولنگ ایجنٹ اور پولنگ ایجنٹوں کو اسلحہ کے زور پر پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکالا گیا جبکہ ووٹوں کی گنتی کے دوران مجلس وحدت مسلمین کے ووٹوں کو ڈبل مہر لگا کر خراب بھی کیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں ووٹبگ سلپ کو نذر آتش کر دیا گیا تا کہ نتائج کویکسر تبدیل کیا جا سکے۔۔اسی طرح این اے 253اور پی ایس 126کے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو بھی اسلحہ کے زور پر دھمکیاں دی گئیں اور متعدد پولنگ اسٹیشنوں کو اندر سے بند کر دیا گیا جس کے باعث ووٹر پریشانی کا شکارہو کر گھروں کو واپس لوٹ گئے جبکہ انہی پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کا نتیجہ ایک سو فیصد سے بھی زیادہ رہاجو کہ حیرت انگیز بات ہے۔اواضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستا کے نامزد کردہ امید وار برائے حلقہ این اے 253سید اصغر زیدی کو بھی یرغمال بنا لیا گیا جنہیں کئی گھنٹوں کے بعدبازیاب کیا گیا۔
سندھ کے علاقے خیر پور میں پی ایس 33پر ہونیو الے انتخابات میں مقامی وڈیروں اور سیاسی تنظیموں کی بدمعاشی کھلم کھلا جاری رہی جس کے نتیجے میں حلقے کے 70پولنگ اسٹیشن پر مجلس وحدت ل؛؛.مسلمین کے نامزد کردہ پولنگ ایجنٹوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔دوسری طرف کوئٹہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد کردہ امید وار آغا رضا پی بی 2کی عظیم الشان کامیابی کے اعلا ن کے بعد اب امریکی ایماء پر اس کے نتائج کوتبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی جو کہ شرمناک اور افسوس ناک عمل ہے۔حیدر آباد میں بھی پی ایس 46میں دھاندلی کے عظیم الشان ریکارڈ قائم کئے گئے اور ووٹوں پر ڈبل مہریں لگا کر ہمارے ہزاروں ووٹوں کو ضائع کیا گیا۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں ملک بھر بشمول پنجاب،سندھ،کراچی اور بلوچستان سمیت خیبر پختونخواہ میں دھاندلی کے نا ختم ہونے والے ریکارڈ قائم کئے گئے ہیں او ر ملک بھر میں ٹھپہ مافیا کو کھلی آزادی دی گئی کہ وہ جس طرح چاہیں انتخابات کے عمل میں دھاندلی اور جعل سازی کریں ۔انتخابات میں دھاندلی کے بعد اب ووٹوں کی دوبارہ گنتی تو اس صورت ممکن ہو سکتی ہے کہ جب متاثرہ حلقے میں ووٹ ثابت رہے ہوں کیونکہ ہمارے ووٹوں کو کثرت سے یا تو نذر آتش کیا گیا یا پھر اوچھے ہتھکنڈوں سے ضائع کر دیا گیا۔الیکشن کمیشن کو چاہئیے کہ متاثرہ حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے ذریعے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی جائے اگر چہ اس عمل سے بھی درست انتخابی نتائج کا سامنے آنا ممکن نہیں لیکن کسی حد تک شکایات کا تدارک کیاجا سکتاہے۔الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت منصفانہ انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ،انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور دہشت گردی کے ذمہ دار الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت ہیں جو اپنی نا اہلی کو قبول کرتے ہوئے متنازعہ حلقوں میں فوری طور پر دوبارہ پولنگ کا انعقاد کر کے عوام کی رائے کا احترام کریں ۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ان تمام معاملات کہ جن میں دہشت گردانہ رویہ،دھاندلی،ووٹوں کو گنتی کے وقت خراب کرنا سمیت دیگر معاملات ہیں کے بعد بھی ہم پر عزم ہیں کہ پاکستان کے لاکھوں افراد نے ہم پر اعتماد کیا اور ہم ان کے شکر گذار بھی ہیں۔ہم اس مطالبے کے ساتھ این اے 250پر ہونے والی ری پولنگ کے انتخابی عمل سے دستبردار ہوتے ہیں کہ کراچی سمیت پورے ملک میں جہاں کہیں بھی دھاندھلی کے شواہد ملے ہیں وہاں فوج کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات ہونے چاہئیں کیونکہ گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں فوج کا غیر حاضر ہونا خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور ہم کسی بھی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں ملک کی اکثریتی عوام کی حوصلہ شکنی ہو جو دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ،بلوچستان،پنجاب،اور خیبر پختونخواہ سمیت ہر اس حلقے میں کہ جہاں دھاندلی کے شواہد ملے ہیں از سر نو انتخابات کروائے جائیں اور فوج اس کی براہ راست نگرانی کرے بصورت دیگر ملک میں شفاف انتخابات ممکن نہیں ہو سکیں گے۔اگر الیکشن کمیشن کسی دہشت گرد گروہ کے دباؤ میں آ کر پی ایس 128پر از سر نو انتخابات کے احکامات جاری کر سکتا ہے تو پھر پاکستان کی محب وطن قوتوں کے مطالبے پر ملک بھر میں جہاں جہاں دھاندلی کی شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں از سر نو انتخابات کیوں نہیں کروائے جا سکتے؟
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد کردہ امید وار برائے صوبائی اسمبلی پی بی 2پر آغا رضا کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے جبکہ پی پی 82جھنگ سے اظہر کاظمی اور پی پی 245میں زوار خادم حسین کو کامیابی حاصل ہو چکی تھی تاہم نتائج کو یکسر تبدیل کردیا گیا جو کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔واضح رہے کہ ملک بھر میں متعدد مقامات پر کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کو بھی مجلس وحدت مسلمین کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ کراچی کے حلقہ پی ایس 117اور پی ایس 126 پر ہمارے امیدوار کامیاب ہو چکے تھے لیکن ووٹوں کی گنتی کے عمل کو رکوانے سمیت نتائج کو تبدیل کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی سمیت امیدواروں کو اغوا اور دھمکیوں سمیت ووٹوں کو خراب کیا گیا ،جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ہم ایک مرتبہ پھر واضح کرتے ہیں کہ کہ عالمی قوتیں اور پاکستان میں موجود ان کے آلہ کار پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں لیکن ہم ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے اور مستحکم پاکستان اور پاکستان کی بقاء کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے والے اپنے ناپاک اور مذموم عزائم میں ہر گز ہر گز کامیاب نہیں ہوں گے ،ہم نے کل بھی پاکستان بنایا تھا اور ہم ہی آج پاکستان کو بچائیں گے۔

5:48 صبح مارچ 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔