دشمنان اسلام شام میں مزاحمت کو شکست دے کر اسلام پر کاری ضرب لگانا چاہتے ہیںآیت الله العظمی مکارم شیرازی

20 جولائی, 2012 09:39

ayatulla makaram sheraziرپورٹ کے مطابق مرجع تقلید و خارج فقہ و اصول کے استاد حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے بدھ (18 جولائی 2012) کی شام کو جمعیت علمائے لبنان کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مسلمانان عالم کے درمیان وحدت و یکجہتی پیدا کرنے میں علماء کا کردار فیصلہ کن اور نہایت اہم ہے اور آپ (علمائے لبنان) نے اس حقیقت کا درست ادراک کیا کہ آج تفرقہ امت اسلامی کے لئے عظیم خطرہ ہے اور دشمنان اسلام بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انھوں نے کہا: اس کے باوجود کہ بعض مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن وہ انتشار اور تفرقے سے ممانعت کے حوالے سے قرآنی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہیں جبکہ قرآنی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ امت میں تفرقہ اور اختلاف کو ہوا دینا، شرک کے مترادف ہے۔
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے شام کی موجودہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو کچھ شام میں ہورہا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اسلام دشمن قوتیں اسرائیل مخالف مزاحمت تحریک کو توڑنا چاہتی ہیں اور اسی سلسلے میں وہ شام کو شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہیں کیونکہ شام محاذ مزاحمت کا اگلا مورچہ ہے اور شام کے بعد وہ عراق اور ایران میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
انھوں نے کہا: شام میں دشمنان اسلام کا نشانہ صرف بشارالاسد نہيں ہیں بلکہ وہ محاذ مزاحمت کو توڑ کر اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: آج ذرائع ابلاغ شام کے حقائق کو دنیا والوں تک نہیں پہنچا رہے ہیں جبکہ دنیا کے بیشتر ذرائع ابلاغ اور تشہیری وسائل ان ہی کے ہاتھوں میں ہیں چنانچہ وہ شامی حکومت کے خلاف غلط اور غیر حقیقی تشہیری مہم چلا رہے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ امت اسلام کے پاس کے پاس ایسے وسائل ہوں تا حقیقت کو دنیا والوں کے سامنے رکھ سکے۔
انھوں نے کہا: آج دنیا والوں کی سماعتیں اسلام کا پیغام سننے کے لئے تیار ہیں لیکن دشمنان اسلام مسلمانوں کو اندرونی مذہبی اختلافات میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں تا کہ انہیں دنیا والوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی فرصت ہی نہ ملے۔
انھوں نے کہا: اتحاد اور وحدت و یکجہتی مسلمانوں اور اسلام کے فخر و عزت کا موجب ہے اور آج وحدت کے قیام کو جہاد فی سبیل اللہ کا درجہ حاصل ہے اور آج "جہاد” درحقیقت وحدت و اتحاد کا قیام ہی ہے۔
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: میں ہر روز و شب اپنی نمازوں کے قنوت میں بارگاہ خداوندی سے التجا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو دشمنوں کے شر اور مکر سے بچائے اور مسلمانوں کے لئے عزت و عظمت کی التجا کرتا ہوں۔
آیت الله العظمی مکارم شیرازی نے مصر میں مسلمانوں کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے کہ یہ انقلاب دوسرے اسلامی ممالک میں بھی سرایت کرجائے اور تمام مسلمانوں کو اس بات کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ ان کی تمام سرگرمیوں کو اسلام کے مسئلے پر مرکوز ہونا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ اس حوالے سے شیعہ اور سنی کا مسئلہ غیر اہم ہے۔

7:23 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top