آل سعود عوام کے کٹہرے میں: سعودی عرب میں بیداری کی کرنیں؟

تحریر:ڈاکٹر فوادابراھیم۔
بسااوقات کوئی بھی عمل اچانک سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن آگ کے بڑے بڑے شعلے جوکہ ایک چھوٹی سی چنگاری سے بنتے ہیں، اسی طرح مظلوم اور پسی عوام کی بعض چھوٹی چھوٹی سی باتیں تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں دہائیوں سے قابض ظالم، جابر، حاکم کے غم وغصے کو خاکستر کرنے کے لئے کافی ہوتی ہیں، مختصرطورپریہ سب یہ کہنا مقصود ہے کہ وہاں کے عوام کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے لکھی گئی ایک نئی بیداری کی کہانی ہے جس کا ماضی سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہے،اگرچہ ان کے درمیان نظریاتی اور نسلی اختلافات ضرور ہے اور بسااوقات یہ جوانان اپنے قبائلی سرداروں کے تحت تاثیر سے آزاد نظرآتے ہیں جن کی رسائی اگرچہ براہ راست بادشاہ کے قصرتک ممکن نہیں مگر یہ اپنے خطوط کے ذریعے ایک بیداراورباشعورعوام ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔
سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نےخاموش اور ظلم کی بادشاہی تک نئے انداز سے اپنی آواز پہنچانے کاسلسلہ شروع کیا ہےجو انہوں نے مشہور زمانہ سوشل میڈیا "یوٹیوب” کے ذریعے صاف وشفاف انداز میں اختصارکے ساتھ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وزیادتی کو بیان کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پورے تشخصات کے ساتھ یعنی پورانام،پیشہ اور قبیلہ کا نام کے ساتھ آدھے منٹ سے تین منٹ تک ریکارڈ کرواکے نشرکیا ہے جس میں انہوں نےبراہ راست شاہ عبداللہ کو مخاطب کرکے مختصر الفاظ میں عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم وناانصافیوں جیسے بھوک افلاس، بے روزگاری، غربت، ہاوسنگ اینڈ پبلک سروسزوغیرہ اور اسی طرح یہاں پرسیاسی اور سماجی حوالے سے اظہارآزادی وغیرہ کا نہ ہونا شامل ہے۔
اب ہم یہاں پر ان تمام ویڈیوزکو من وعن پیش کرتے ہیں جو مختلف اوقات میں یوٹیوب پر نشر ہواا۔
گذشتہ22مارچ کو ایک جوان عبدالعزیز بن فھد الدوسری نے 33 سکینڈ پر مشتمل ویڈیو میں براہ راست شاہ عبداللہ کومخاطب کرکے اپنا اظہارخیال یوں کیاجو اس نے اس سے پہلےکبھی نہیں کہا تھا:
میں ایک سعودی باشندہ ہوں میری تنخواہ صرف 1900ریال ہے جو506 ڈالر بنتا ہے۔ اے عبداللہ بن عبدالعزیز اب تم خود بتائو کیا یہ رقم میرے لئے کافی ہے؟ کیا اس سے میرگھرکاخرچہ پوراہوگا؟ شرم کرو بھائی خدا تمہیں غارت کرے، بھائی ہمیں اپنا حق تو دو،اور کب تک ہم تمہیں پیٹرول دیتے رہیں گے؟ کب تم یہ کھیل کھیلتے رہیں گے؟ ہمیں اپنا جائز حق تو دو، کہیں ایسانہ ہو کہ ہم خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائے۔
اور اپریل کے اوائل تک 000٫1٫600لوگوں نے وزٹ کیا تھا۔
23مارچ کو ایک اور سعودی باشندہ جس کانام عبداللہ مبروک بن عثمان الغامدی ہے جس کا تعلق جنوب غربی علاقے سے ہے نے کہا کہ میں نے الدوسری کا ویڈیو دیکھا جو اپنی کم تنخواہ کی شکایت کر رہا تھا اس نے ان کی مکمل تائید کرتے ہوئے خادم حرمین شریفین کوبراہ راست مخاطب کرتے کہا:
میں اس جوان کی بھرپور حمایت کرتا ہوں جس نےجو کہا سچ کہا اور یہ کہ کسی کو کوئی حق حاصل نہیں چاہے وہ اس ملک کا بادشاہ ہو یا کوئی اور کہ اس عوام سے دولت لوٹ کر کمائے اور ان کو غربت،بے روزگاری،بھوک وافلاس،ظلم میں مبتلاء کردیں، پھراس نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا جس پر اس کاتمام ایڈریس درج تھا۔
اس ویڈیو کووزٹ کرنے والوں کی تعداداپریل کے اوائل تک 737٫167 تک پہنچی ہے۔
27مارچ کو ایک اور جوان جس کانام سعودمرضی عبداللہ البیضانی الحربی ہے جو ریاض کا پیدائشی ہےاس نے بھی اپنے پیش روساتھیوں کی حمایت کرتے ہوا عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئےکہا:
یہی مطالبات ہم سب کےہیںخالصۃ ہماری یہی آواز ہےہمارے مطالبات بہت ہی آسان ہیں،اس کے لئے کوئی ٹویٹر کے صفحات سیاہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہمیں معلوم ہے یہ تمام تمہارے کچرے دان میں چلے جائیں گےتم عوام کو روڈپرنکلنے پر مجبور نہ کرو اس لئے کہ سیاۃ گاڑیوں{سکیورٹی ادارے} کی تعداد آزادمنش عوام سے کہیں کم ہے ہم تو صرف پرامن طریقے سے اپناحقوق کا مطالبہ کررہے ہیںلہذا تم ہماری باتوں کو غور سے سنوتم جب یہود ونصاری کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہو اور کل تم اوباما کے بھی گفتگو کرنےوالے ہو لہذا ہماری بھی آواز سنوہماری مطالبات مانوہمیں رہنے کیلئے چھت چاہیے،ہم عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
30مارچ کو ایک ڈاکٹرجس کانام عبدالرحمن علی احمد غریدی العسیری ہے نے 2منٹ 32سکینڈ میں اختصار کے ساتھ اپنا مطالبہ یوں پیش کیا:
میں نے اپنے ہم وطن چند ایسے دوستوں کے ویڈیودیکھاجو اپنے جائزبنیادی حقوق کا مطالبہ کررہے تھے تودوسرے دن انہیں اٹھاکر جیل میں ڈال دئے گئے۔
اے آل سعود تم لوگوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ تم اپنے عوام کی تذلیل کرتے ہو جیساکہ ہمارے ایک دوست الدوسری نے کہا کہ ان کی تنخواہ صرف 1900ریال ہے جس سے اس کے گھرکا خرچہ نہیں چلتا لہذا تم سوچو وہ بھی تمہاری اولاد ہے۔ ادھراور ہم یہ آئے روز دیکھتے ہیں کہ شاہی خاندان کے افرادمہنگے ترین گاڑی خریدنے میں مصروف ہیں،تم لوگوں نے ہم سے سب کچھ لوٹ لیا،ہمارا نام،ملک، دین،مذھب، وغیرہ اب تو ہمارا دین بھی آل سعود کا دین ہوگیا،اور ہمارے تیل سے تم ہماری خدمت کرنے کےبجائے دوسرے ہمارے دشمنوں کی خدمت کرنے میں تلےہوئے ہو تمہیں تو اپنوں اور غیروں میں کو تمیز ہی نہیں،یہ سب کچھ تمہارے لئے جائز نہیں ہے، میں خود ایک ڈاکٹر ہوں میں مختلف سرکاری اور غیرسرکاری ہسپتالوں کام کرچکاہوں ایک دفعہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے میرے سامنے 3 مریضوں صرف مناسب دواء کی عدم دستیابی کی وجہ سےبستر پر تڑپ تڑپ کرتے ہوئےدیکھا ہے۔
لہذا اے عبداللہ بن عبدالعزیز تم کہاں ہو؟ کیا سب کچھ تمہیں پتہ بھی ہے؟اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ کون سا قانون ہے کہ جو کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اسے تم اٹھا کر جیل میں ڈال دے؟۔
اس ویڈیو کو اب تک 539٫508لوگوں نے وزٹ کیا ہے۔
31مارچ کو ایک اور اٹھارہ سالہ جوان نے اپنا ویڈیو ریکارڈکروایا جس نے اپنانام وافی مرضی عبداللہ البیضائی الحربی ہے۔
کیونکہ اسی دن ان کے بھائی سعودالحربی کو گرفتار کیا گیا تھاجس کے لئے وہ اوران کےدوسرے ساتھی عبدالعزیز الدوسری وغیرہ نے یوں احتجاج کیا: کہاں ہے آزادی؟ مملکت حرمین میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو گرفتار کرنا کب سے شروع ہوا ہے؟ حالانکہ ان کے مطالبات قانوناً جائز ہیں انہیں صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے پر گرفتار کئے گئے ہیں، اس حوالے سے اس دوپیغامات دیا جن میں پہلا اس نے وزیر داخلہ شہزادہ محمدنایف کے نام بھیجا جس کا متن یوں تھا:
تم ہمیں بولنے سے کیوں روکے جارہے ہو؟ ہم عزت کے ساتھ اس ملک میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں، لہذا ہم پر ظلم وتشدد کے دروازے بندکردو،اب خوف وخطر کی دیواروں کو ہم گراچکے ہیں، یہ تم نوٹ کرو اب عوام بزدل نہیں ہے اب بیدار ہوچکی ہے۔
جبکہ دوسرا خط عوام کے نام دیا ہے جس میں اس نےحضرت علی ابن ابی طالب سے ایک روایت کو نقل کیا۔
” کہ جب تم کسی ظالم کو اپنے ظلم میں مگن دیکھو گے تو سمجھ لینا ان کا انجام حتمی ہے اور اگر مظلوم کو ظالم کے خلاف مقاومت کرتے ہوئے دیکھو تو سمجھ لینا اس کی کامیابی حتمی ہے۔
پھراس نے کہا کہ میں اپنے دیگر ساتھیوں کی گرفتار ہونا نہیں چاہتا اور اگر میں گرفتار ہوبھی جاوں تو میں نہیں چاہتا کہ احتجاج کا یہ سلسلہ ختم ہو، آخرمیں اس نے اپنا شناختی کارڈدکھایا جس پر ان کا پورا نام سمیت پتہ درج تھا۔
31مارچ کو ایک 20جوان جس کانام معاذ محمد سلیمان الجھنی تھا جس کاتعلق حجاز سے تھا نے کہا:
میں آل سعود کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں:
جب ظالم بادشاہ اکڑاکڑکر چلنے لگا تو ہم تلوار اٹھائے اس کے پیچھے پیچھےچلنا شروع کیے:
تم عوام کا مال لوٹتے ہو پھرتم ان کو اپنے حقوق کے مطالبہ کرنے پر صرف دین ومذہب کی بنیادپرجیل میں ڈالتے ہو یہ کون سی انسانیت ہے؟۔
ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملکی دولت کو عوام کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کرے، جوذخیرہ اندوزی اور چوری چکاری تمہارے اور تمہارے شہزادوں کی طرف سے ہورہے ہیں اسے بالفور بند کیا جائے،اس ملک میں امن ومان کاقیام عمل میں لایا جائےاور یہاں کے ملازموں کی تنخوہوں میں اضافہ کیا جائے ورنہ تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا یہ کہہ کر اس نے کہا : یہ ہے میری شناختی کارڈ جس پر اس کاپورا پتہ درج تھا۔
2اپریل کوایک اور سعودی جوان نے ظالم بادشاہ کو اپنا پیغام یوں سنایا:
میرے پیش روبرادران الدوسری،الحربی،الغامدی،العسیری اورالجھنی پر میرا سلام ہو:
اے عبداللہ بن عبدالعزیز میرانام حمودفرج المصاریر الدوسری ہے میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ پانچوں افراد تمہارے سرکا تاج ہے سو جیل ان کے لئے مناسب نہیں ہے، جیل میں تو ظالم،فاسق اور باغی جاتا ہے۔
اے عبداللہ بن عبدالعزیز تم واقعی ایک انتہائی غیر مہذب اور جھوٹے انسان ہو اس لئے کہ تم نے غریبوں کی مدد کے لئے پچھلے آٹھ سال سےوعدہ کرکے بیٹھے ہو مگرابھی تک وعدہ خلافی کرتے آرہے ہو،
اے عبداللہ بن عبدالعزیز تم نے تو اس ملک کے تمام سرمایے خیالی اقتصادی منصوبوں کے نام ہڑپ کردیے،
اے عبداللہ بن عبدالعزیز تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی ہے کہ تم نے اس ملک کے تمام سرمایے یہودونصاری کی خدمت میں لٹاتے رہے اور ادھر اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہلاتے ہو،
اے عبداللہ بن عبدالعزیز تم تو آئے روز اس عوام پر ایک نیا ظلم کا دروازہ کھول دیتے ہو خداتمہیں غارت کرے عوام کے حقوق کا نہ تمہیں کوئی احساس ہے اور نہ ہی تمہارے دیگر ساتھیوں کو۔
اے عبداللہ بن عبدالعزیز تم کہتے تو ہو کہ تم انسانیت کا بادشاہ ہو لیکن انسانیت تم کوسوں دور ہے یہاں تمہاری بیٹیاں تو 13 سال سےتک ظلمت شرک میں غرق ہیں،
اے حرمین شریفن کے باشندو دیگر ملکوں کی عوام جب یہ دیکھے کہ ان کےحکمران چوری کرنے لگے ہیں توانہیں دھکے مار کر نکال دیتی ہے اور ہم اپنے حکمراں کو کب سےچور کہنا شروع کریں گے اورکب اس بات کا اظہار کریں گے کہ اب ہمارے پاس تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
اس سلسے کے فورا بعد حکومتی اہلکار نے ان کے رد عمل میں ان میں سے ہرایک کو یکے بعد دیگرے گرفتارکرنا شروع کیا جو ایک متوقع امر تھا۔
لیکن ان کی اس بزدلانہ کاروائیوں سے انہوں نے کوئی خوف وخطر محسوس نہیں کیا۔
آخر میں ہم خلاصہ کے طور پریہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس وقت اپنے احتجاج اور مقاومت میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مسلسل سعودی سکیورٹی کے ٹارگٹ کا نشانہ بن رہے ہیں اور تیل سے مالامال ملک کی عوام اپنے سکیورٹ اہلکاروں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں ہے ان کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے جائزحقوق کے لئے آواز حق بلند کیا تھا۔ادھر ” ٹویٹر” پر سماجی حقوق کے افراد اور دیگر ہزاروں لوگوں نے ان جوانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ترجمہ: محمدتقی صابری








