جھنگ، کیا معتدل قوتیںملعون احمد لدھیانوی کو ہرا پائیں گی!!!

24 اپریل, 2013 11:13

ludhiyanvi1ضلع جھنگ کا حلقہ این اے 89 ہمیشہ سے ہی سیاسی توجہ کا مرکز رہا ہے، کیونکہ اس حلقے میں کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں بلکہ اصل مقابلہ تکفیریوں اور معتدل قوتوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بےجا نہیں ہوگا کہ اس حلقے کا سارا ووٹ ہی فرقہ وارانہ ہے۔ الیکشن 2013ء کے حوالے سے اس حلقے میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ دونوں قوتیں یعنی معتدل اور تکفیری اپنے اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے اور پولنگ والے دن بھرپور مقابلہ کرنے کیلئے کمر کس رہی ہیں۔ اس حلقے کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں وہی امیدوار فاتح ہوتا ہے جسے شیعہ اور سنی ملکر ووٹ دیتے ہیں۔ اگر یہ ووٹ کسی بھی سطح پر تقسیم ہوجائے تو یہ سیٹ تکفریوں کے ہاں چلی جاتی ہے۔ اس کی مثال 2002ء کے الیکشن ہیں، جب سپاہ صحابہ کے اس وقت کے سربراہ مولانا اعظم طارق نے یہ سیٹ جیت لی تھی اور باقی دیکھتے رہے گئے، جبکہ 2008ء کے انتخابات میں شیخ وقاص اکرم نے یہ میدان مار لیا تھا۔

آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ مولانا اعظم طارق کے جیتنے کی وجوہات کیا تھیں اور شیخ وقاص اکرم کے ہارنے کے اسباب کیا تھے۔ 2002ء کے الیکشن میں اس حلقہ میں کل پندرہ امیدوار میدان میں اترے۔ جن میں سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار ریٹائرڈ ہوئے جبکہ باقی چودہ نے الیکشن لڑا۔ اس الیکشن میں سپاہ صحابہ کے امیدوار مولانا محمد اعظم طارق نے 41425 ووٹ لے کر میدان مارا اور یوں یہ سیٹ 7242 ووٹوں کے مارجن سے سپاہ صحابہ کے پاس چلی گئی۔ اس حلقے کے دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدوار پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری تھے، جنہوں نے 34183 ووٹ حاصل کئے جبکہ تیسرے نمبر پر شیخ وقاص اکرم رہے، جنہوں نے 31959 ووٹ حاصل کئے۔ اسی طرح متحدہ مجلس عمل کے امیدوار محمد انور چیمہ نے فقط 969 ووٹ لئے۔ پیپلزپارٹی کا امیدوار مخدوم زادہ سید اسد حیات 1079 ووٹ حاصل کرسکا جبکہ مسلم لیگ نون نے شکست کے خوف سے اپنا امیدوار میدان میں نہ اتارنے میں ہی عافیت جانی۔ اس حلقے میں سپاہ صحابہ کے امیدوار کے جیتنے کی وجہ شیعہ سنی معتدل ووٹ بینک کا تقسیم ہونا تھا، کیوں کہ اگر ڈاکٹر طاہرالقادری اور شیخ وقاص اکرم آپس میں ٹائی اپ کرلیتے تو یقیناً ووٹ تقسیم نہ ہوتا اور یوں 24717 ووٹوں کی لیڈ سے اعظم طارق کو ہرایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور یوں سپاہ صحابہ میدان مارنے میں کامیاب ہوگئی۔

2008ء کے الیکشن میں شیخ وقاص اکرم نے اسی حلقہ سے 51976 سے زائد ووٹ لیکر سپاہ صحابہ کے مولانا احمد لدھیانوی کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ اس الیکشن میں احمد لدھیانوی نے پینتالیس ہزار دو سو سولہ ووٹ حاصل کئے، یعنی احمد لدھیانوی فقط چھ ہزار سات سو ساٹھ ووٹوں کے مارجن سے ہار گیا۔ 2008ء کے الیکشن میں سپاہ صحابہ کے ووٹ بینک میں 2002 کے مقابلے میں 4000 ووٹوں کا اضافہ ہوا، لیکن اس کے باوجود شیخ وقاص اکرم تقریباً سات ہزار ووٹ کی لیڈ سے فاتح امیدوار ٹھہرے۔ اگر شیخ وقاص اکرم کی فتح کی وجوہات پر غور کریں تو یہی پتہ چلتا ہے کہ اس بار الیکشن میں معتدل قوتوں یعنی شیعہ سنی نے ملکر شیخ وقاص اکرم کو سپورٹ کیا اور یوں مسلم لیگ قاف کے امیدوار نے یہ سیٹ اپنے نام کرلی۔ اس الیکشن میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے بائیکاٹ کیا جس کا فائدہ بھی شیخ وقاص اکرم کو ہی ہوا۔ اس الیکشن میں نون لیگ کا امیدوار پندرہ ہزار سات سو تینتالیس ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

اب آتے ہیں رواں سال گیارہ مئی کو ہونے والے الیکشن کی جانب۔ صورتحال انتہائی غیر واضح ہے اور قومی امکان ہے کہ سپاہ صحابہ کا امیدوار یہ سیٹ آسانی سے جیت جائے گا۔ کیونکہ اس حلقے میں معتدل قوتوں نے ہمیشہ ون ٹو ون مقابلے میں ہی سیٹ نکالی ہے، تاہم اس دفعہ ایک مرتبہ پھر معتدل طبقے کا ووٹ تقسیم دکھائی دیتا ہے۔ پیر کاظم گیلانی المعروف پیر پٹھان نے اس بار کسی مشترکہ امیدوار کو سپورٹ کرنے بجائے اپنے صاحبزادے پیر طارق گیلانی کو پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں اتار دیا ہے۔ پیر کاظم گیلانی کا جھنگ میں بریلوی مکتب فکر میں ایک خاص مقام ہے اور لوگ انہیں پیر مانتے ہوئے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، یعنی یہ ووٹ پیری مریدی کے نام پر جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بریلوی طبقے کا ووٹ بینک تقریباً پچیس ہزار کے قریب ہے، اسی طرح شیعہ ووٹ بینک چوبیس ہزار ہے۔ یہ دونوں معتدل قوتیں جب بھی کسی متفقہ امیدوار کو سپورٹ کرتی ہیں وہ امیدوار جیت جاتا ہے لیکن اس بار پیر کاظم شیخوں کیخلاف اپنا امیدوار میدان میں لے آئے ہیں۔ اسی حلقے میں پی ٹی آئی کی طرف سے ابوالحسن انصاری، قاف لیگ کی طرف قیصر چوہدری جو کہ ارائیں فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، الیکشن میں وارد ہوچکے ہیں۔ اسی طرح کئی ایک دیگر چھوٹے چھوٹے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علماء کونسل نے تاحال اس حلقے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور یوں صورتحال غیر واضح اور مبہم نظر آرہی ہے۔ دونوں جماعتیں اس بات پر تو متفق نظر آتی ہیں کہ کسی مشترکہ امیدوار کو سپورٹ کیا جائے اور تکفیریوں کو پارلیمنٹ میں نہ پہنچنے دیا جائے، لیکن ابھی تک اس بارے میں ان کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب شیخوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پرانے سیاستدان ہیں اور انہوں نے کئی امام بارگاہوں کے متولیوں اور ماتمی سنگتوں کے سرکردہ افراد کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، جبکہ شیعہ علماء کونسل اور جھنگ کی مقامی لیڈر شپ شیخ اکرم کو سپورٹ کر رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی اور معتدل قوتیں اپنا متفقہ امیدوار سامنے لانے میں ناکام رہیں تو اس کا سارا فائدہ سپاہ صحابہ اٹھائے گی اور یوں معتدل قوتوں کے 90 ہزار ووٹوں کے باوجود احمد لدھیانوی پچاس ہزار ووٹ لیکر این اے 89 اور پی پی 77 سے میدان مار لے گا۔

ابھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم پیپلزپارٹی کو راضی کرکے طارق گیلانی کو بٹھائیں یا پھر شیخ اکرم کے بجائے طارق گیلانی کو سپورٹ کریں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں شیعہ جماعتیں ملکر اگر شیخ اکرم کو سپورٹ کرتی ہیں تو بھی جیتنے کے فقط 80 فی صد امکانات ہیں۔ رہنماؤں کو اس بارے میں فوری فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ علاوہ ازیں رہنماؤں کو وہاں پر خود جانا چاہیے اور اس حوالے سے فوری فیصلہ کرنا چاہیے، تاکہ یہ سیٹ دہشتگردوں کے سرغنہ کے پاس نہ جاسکے۔

3:40 صبح مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔