72 گھنٹوں میں سعودی جارحیت سے 11 بچوں اور 5 خواتین سمیت 37 یمنی شہری شہید، 90 زخمی، یمنی انسانی حقوق مرکز
شیعیت نیوز : یمن کے انسانی حقوق و ترقی کے مرکز عین الانسانیہ نے کہا ہے کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں یمن بھر میں سعودی حملوں سے 127 شہری شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ مرکز کے مطابق شہداء کی تعداد 37 ہے جن میں 11 بچے اور 5 خواتین شامل ہیں، جبکہ 90 زخمیوں میں 26 بچے اور 15 خواتین ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تعز کے علاقے مقبنہ میں سعودی جارحیت سے خاتون اور بچی سمیت 9 شہری شہید، 16 زخمی، یمنی وزارت صحت
مرکز نے اپنے بیان میں صوبہ صعدہ کے ضلع سحار کے علاقے الطویلہ میں شہری علی القحم کے گھر پر سعودی حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 33 شہری شہید و زخمی ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مرکز کے مطابق یہ حملہ صوبہ ذمار کے ضلع ضوران آنس میں شہریوں کے گھروں پر کلسٹر بموں سے کیے گئے سعودی حملے کے ایک روز بعد ہوا، جبکہ صعدہ میں نشانہ بننے والے گھر کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے اور شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
عین الانسانیہ مرکز نے اس حملے اور اس کے انسانی و قانونی نتائج کی مکمل ذمہ داری سعودی رجیم پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور رہائشی علاقوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اور ایسی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتی۔ مرکز نے زخمیوں کو فوری طبی امداد، امدادی کارروائیاں جاری رکھنے اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا پیر کے روز سعودی جنگی طیاروں نے صوبہ تعز کے ضلع الشمایتین کے علاقے حباجر میں ایک شہری کے گھر اور صوبہ الضالع کے ضلع الحشاء میں پانی کے ایک ٹینک کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں جانی و مالی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
شہری گھروں، پانی کے ذخائر اور بنیادی ضروریات کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس امر کا ثبوت ہے کہ آل سعود میدان میں یمنی مزاحمت کا سامنا کرنے میں ناکامی کا بدلہ نہتے یمنی عوام سے لے رہی ہے۔







