تعز کے علاقے مقبنہ میں سعودی جارحیت سے خاتون اور بچی سمیت 9 شہری شہید، 16 زخمی، یمنی وزارت صحت
شیعیت نیوز : یمن کی وزارت صحت و ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ آل سعود کے جنگی طیاروں نے آج صوبہ تعز کے ضلع مقبنہ کی عزلت حمیر الجبل میں شہریوں کے متعدد گھروں کو چار فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک بچی سمیت 9 شہری شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ذمار میں سعودی کلسٹر بمباری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے شہید، 15 افراد زخمی، یمنی وزارت صحت
یمنی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ امدادی ٹیمیں تاحال ملبے تلے دبے متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ حملہ یمنی شہریوں کے خلاف سعودی رجیم کے جنگی جرائم کے طویل سلسلے میں ایک نیا اضافہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہداء میں راکان عمار العکشی، بشار مامون سیف، فارق مامون سیف، ایمن یحییٰ العکش، اشجان یحییٰ العکش، انوار عادل شویط، حمود عادل شویط، ریدان عادل شویط اور ایک کمسن بچی شامل ہیں جو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد دم توڑ گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس قتل عام کو جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی رہائشی مقام پر یکے بعد دیگرے چار حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی جارح زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا چاہتے تھے، اور کمیشن نے سعودی جارحیت کے سرغنوں پر عالمی فوجداری عدالت میں جنگی مجرموں کے طور پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ دہرایا۔ دوسری جانب یمنی وزارت خارجہ نے عالمی برادری کی خاموشی کو ان جرائم میں شراکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرائم جواب اور سزا کے بغیر نہیں گزریں گے۔







