یمنی کارروائیوں نے آل سعود کے کھیلوں اور ویژن 2030 کے چمکتے خوابوں کو خطرے میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

19 اکتوبر, 2026 09:39

شیعیت نیوز : ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یمن کے ساتھ جاری جنگ نے سعودی عرب کو کھیلوں کا عالمی مرکز بنانے کی آل سعود کی کوششوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں، اور یمنی فوجی کارروائیاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے تحت کھیلوں، ہوابازی اور سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مکہ و مدینہ کے سوا سعودی فضائی حدود غیر محفوظ ہے، تیل تنصیبات سے دور رہیں، یمنی فوجی ذریعہ

رپورٹ کے مطابق ریاض میں سعودی کلب النصر اور ازبکستان کے کلب نفتچی فرغانہ کے درمیان ایشین چیمپئنز لیگ ایلیٹ کا میچ یمنی میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر کک آف سے صرف 15 منٹ قبل جاری ہونے والی سکیورٹی وارننگ کے باعث تاخیر کا شکار ہوا۔ اس کے علاوہ سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا، نومبر میں ریاض میں ہونے والی اربن سائیکلنگ ورلڈ چیمپئن شپ منسوخ ہو گئی، ای اسپورٹس ورلڈ کپ ملتوی اور سکس کنگز سلیم ٹینس ٹورنامنٹ کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا، جبکہ 2029 کے ایشین ونٹر گیمز سعودی عرب سے قازقستان منتقل کر دیے گئے۔

رپورٹ میں 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے سعودی منصوبوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اخراجات کے وسیع جائزے اور نیوم منصوبے میں کٹوتیوں کے باعث نیوم اسٹیڈیم سمیت پانچ مجوزہ اسٹیڈیمز شاید تعمیر نہ ہو سکیں۔ رپورٹ کے مطابق لیو گالف منصوبے پر سعودی خودمختار دولت فنڈ کے تقریباً 6 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور یہ منصوبہ مالی مشکلات سے دوچار ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے باعث امارات، اتحاد، فلائی دبئی، قطر ایئرویز، عمان ایئر، ایئر فرانس، برٹش ایئرویز، لفتھانسا، کیتھے پیسیفک اور ڈیلٹا سمیت متعدد فضائی کمپنیاں سعودی شہروں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ یا معطل کر چکی ہیں۔ بعض کمپنیوں کی معطلی نومبر اور دسمبر 2026 تک جاری رہے گی، کیتھے پیسیفک نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 31 جنوری 2027 تک بڑھا دی ہے، جبکہ ڈیلٹا نے اٹلانٹا سے ریاض کی نئی پرواز کا آغاز مارچ 2027 تک مؤخر کر دیا ہے۔

یمنی میزائل کارروائیوں نے جنگ کو سعودی عرب کے معاشی اور اسٹریٹجک مرکز تک پہنچا دیا ہے۔ یمنی عوام کے خون سے ہاتھ رنگنے والی آل سعود کنسرٹس، ناچ گانے اور کھیل تماشوں کے ذریعے دنیا کو جو چمکدار تصویر دکھانا چاہتی تھی، وہ یمنی مزاحمت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔

10:37 صبح اکتوبر 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔