برسوں کی بمباری یمن کی عسکری طاقت کم نہ کر سکی، سعودی ہوائی اڈوں سے طیاروں کا انخلا جاری، صیہونی میڈیا
شیعیت نیوز : غاصب صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں نے یمنی فوجی کارروائیوں میں شدت کے بعد سعودی ہوابازی کے شعبے اور فضائی دفاع کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو نمایاں کیا ہے، اور اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور غاصب اسرائیل کی برسوں کی فضائی بمباری یمن کی عسکری صلاحیت کو کمزور نہیں کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی رجیم کو ملنے والی صیہونی انٹیلیجنس پر خاموشی، یمن مخالف خطبے نے طاہر اشرفی کا دوہرا معیار بے نقاب کر دیا
ایک صیہونی معاشی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی فضائی کمپنیاں تیزی سے اپنے طیارے سعودی ہوائی اڈوں سے نکال رہی ہیں اور نکالے گئے طیاروں کی مالیت 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود طیاروں کی تعداد ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں 134 سے گھٹ کر 38 رہ گئی، یعنی تقریباً 72 فیصد کمی ہوئی، جبکہ دو سعودی طیاروں سمیت 6 طیاروں کو نقصان پہنچا۔
ایک صیہونی ٹی وی چینل نے بھی اعتراف کیا کہ برسوں کی بمباری کے باوجود یمن اپنے ہتھیاروں کو مسلسل ترقی دے رہا ہے اور افرادی قوت میں اضافے اور کم لاگت مقامی اسلحہ سازی کے ذریعے اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھا رہا ہے۔ چینل کے مطابق یمن کے پاس بیلسٹک اور کروز میزائلوں، ڈرونز اور جہاز شکن ہتھیاروں کا متنوع ذخیرہ موجود ہے، اور مقامی طور پر تیار سستے ہتھیار سعودی فضائی دفاع کے لیے بڑا چیلنج ہیں کیونکہ انہیں روکنے والے میزائل کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔
ایک صیہونی اخبار نے یمنی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے غاصب اسرائیل اور سعودی رجیم کے درمیان بڑھتے ہوئے انٹیلی جنس تعاون کا انکشاف کیا ہے، جس میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے انٹیلی جنس کا تبادلہ اور اہداف کی نشاندہی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ جیسے جدید صیہونی فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی کو سعودی عرب اور غاصب اسرائیل کے درمیان براہ راست تعلقات کی بحالی سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
ان رپورٹوں نے ایک طرف یمن کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے سامنے آل سعود کی بے بسی کو آشکار کر دیا ہے تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت میں سعودی رجیم اور غاصب صیہونی حکومت ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔







