سعودی جرائم نے ہر یمنی پر نفیر اور دشمن سے قصاص کی ذمہ داری عائد کر دی ہے، رابطہ علمائے یمن
رابطہ علمائے یمن
شیعیت نیوز : رابطہ علمائے یمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی دشمن یمنیوں کے خون میں ڈوبتا جا رہا ہے اور محاذوں اور میدان جنگ سے دور گنجان آباد دیہاتوں، شہروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی ممالک مکہ و مدینہ پر حملوں کا سعودی بہتان مسترد کر کے جارحیت رکوائیں، یمنی وزارت خارجہ
رابطہ علمائے یمن نے سعودی جرائم اور یمنیوں کے خون کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال پوری یمنی قوم پر نفیر، کامیابی اور دشمن سے قصاص کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی رجیم کی کشیدگی اور جرائم کا تقاضا ہے کہ ہر عالم دین، خطیب اور مبلغ عوام کو متحرک کرنے اور سعودی دشمن کے جمع کردہ لشکروں کے خلاف جہاد کی ترغیب دینے کی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔
بیان میں سعودی رجیم کے ساتھ شریک، اس کی صف میں کھڑے ہونے والوں، اس کی جارحیت کا جواز پیش کرنے اور اسے شرعی رنگ دینے والوں اور اس کے بہتان عظیم کو اپنانے والوں سے اپیل کی گئی کہ وہ خدا سے ڈریں اور اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ رابطہ علمائے یمن نے امت کے علماء کی تمام آزاد آوازوں اور منصفانہ مؤقف کو سراہا، جن میں سرفہرست لیبیا کے مفتی کا مؤقف ہے جنہوں نے کلمہ حق بلند کیا۔
رابطہ علمائے یمن نے کہا کہ سعودی دشمن کی جانب سے کشیدگی اور درندگی پر اصرار اور قتل عام اسے غضب الٰہی کا مستحق بنا رہا ہے اور اسے زوال کے قریب لے جا رہا ہے۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ سعودی دشمن کی کشیدگی یمنی مسلح افواج کو یہ شرعی حق دیتی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ اس کا جواب دیں، اسے روکیں اور اس سے قصاص لیں، اور یہ وہ جائز حق ہے جس کی ضمانت قرآن کریم دیتا ہے۔







