ذوباب میں سعودی فضائی حملے سے 3 شہری شہید، تعز میں 3 بچوں سمیت 7 افراد زخمی، یمنی ذرائع
شیعیت نیوز : یمن کے صوبہ تعز کے ضلع ذوباب کے علاقے العرضی پر آل سعود کے جنگی طیاروں کے فضائی حملے میں 3 یمنی شہری شہید ہو گئے، جبکہ حملے میں متعدد مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے ضلع المعافر کے علاقے النشمہ میں مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں : تعز کے علاقے مقبنہ میں سعودی جارحیت سے خاتون اور بچی سمیت 9 شہری شہید، 16 زخمی، یمنی وزارت صحت
یمنی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر انیس الاصبحی نے بتایا کہ تعز کے اضلاع التعزیہ اور المسراخ میں سعودی جارحیت کے کرائے کے جنگجوؤں کی گولہ باری اور فائرنگ سے 7 شہری زخمی ہو گئے۔ ان کے مطابق ضلع المسراخ کے علاقوں المعیانہ اور حمہ السفلیٰ پر داغے گئے مارٹر گولوں سے 3 بچے زخمی ہوئے، شہریوں کے گھروں پر توپخانے کی گولہ باری سے 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ ضلع التعزیہ کی عزلت حذران میں ایک خاتون سعودی جارحیت کے کرائے کے جنگجوؤں کے ایک نشانہ باز کی گولی کا نشانہ بنی۔
یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں اور توپخانے نے ضلع الوازعیہ کی عزلت المشاولہ میں ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی، جبکہ ضلع جبل حبشی میں مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن نے طبی مرکز پر حملے کو جنگی جرم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سعودی رجیم اور اس کے اتحاد کو ان جرائم کا مکمل قانونی اور مجرمانہ ذمہ دار ٹھہرایا۔
ادھر یمنی انسانی حقوق مرکز عین الانسانیہ نے بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک صوبہ تعز میں سعودی جارحیت کے 42 واقعات میں 236 افراد نشانہ بنے، جن میں 17 بچوں اور 12 خواتین سمیت 67 شہید جبکہ 33 بچوں اور 28 خواتین سمیت 169 زخمی شامل ہیں۔ مرکز نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ اور سعودی جرائم کے ذمہ داروں کے احتساب کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔







