عام معافی ہمیشہ نہیں رہے گی، دشمن کی صفوں میں لڑنے والے ہتھیار ڈال دیں، یمنی اسیران کمیٹی کے سربراہ
شیعیت نیوز : یمن کی قومی کمیٹی برائے امور اسیران کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ واقعات میں بغیر لڑائی کے رضاکارانہ طور پر خود کو حوالے کرنے والے 159 قیدیوں کو یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل مہدی المشاط کی جانب سے 10 ستمبر 2026 کو اعلان کردہ عام معافی کے تحت رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کے ساتھ فیصلہ کن مقابلہ جاری رہے گا، انصاراللہ
صنعاء میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں، جس میں یمنی وزیر ٹرانسپورٹ و تعمیرات عامہ محمد قحیم، صوبہ ابین کے گورنر صالح الجنیدی، مجلس شوریٰ کے ارکان اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے صنعاء مشن کی سربراہ بھی موجود تھیں، عبدالقادر المرتضیٰ نے بتایا کہ یہ صدارتی معافی کے تحت رہائی کی دوسری کھیپ ہے۔ اس سے قبل 15 ستمبر کو الحدیدہ میں خود کو حوالے کرنے والے 323 قیدی رہا کیے گئے تھے جبکہ تعز میں میدان میں ہی درجنوں افراد کو رہا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ رہائی ثابت کرتی ہے کہ عام معافی محض میڈیا کے لیے اعلان نہیں بلکہ ایک حقیقی فیصلہ ہے جس پر زمین پر عمل ہو رہا ہے، یہ فیصلہ بدستور نافذ ہے اور ہر اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو ہتھیار ڈال کر دشمن کے کیمپ چھوڑ دے اور خود کو یمنی مسلح افواج کے حوالے کر دے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عام معافی ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں رہے گی، خصوصاً اگر ایسے حالات پیدا ہوں جن میں قیادت دیگر اقدامات کی طرف جانے کا فیصلہ کرے۔
عبدالقادر المرتضیٰ نے دشمن کی صفوں میں لڑنے والے گمراہ افراد کو پیغام دیا کہ وہ اپنے پیش روؤں کی طرح عام معافی کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور سعودی رجیم کے کیمپ اور محاذ چھوڑ دیں جو انہیں اپنے ہی وطن پر قبضے اور اس پر اپنی بالادستی مسلط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی ملک کے بیٹے ہیں اور ہم سب کا فرض وطن کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ دشمن کی خدمت۔ دوسری جانب یمنی پارلیمنٹ نے بھی قیدیوں کے ساتھ یمنی سیکیورٹی اداروں اور مسلح افواج کے اعلیٰ انسانی و اخلاقی سلوک کو سراہا ہے۔







