پیٹرو ڈالر کے عوض اپنی ساکھ بیچنے والی حکومتیں سعودی جرائم پر خاموش ہیں، یمنی حکومت کے ترجمان

17 اکتوبر, 2026 18:30

شیعیت نیوز : یمنی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمر البخیتی نے صوبہ تعز کے ضلع مقبنہ کی عزلت حمیر الجبل میں آل سعود کے ہاتھوں ہونے والے ہولناک قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جرم بے گناہوں کا خون بہانے اور بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کو پامال کرنے پر سعودی رجیم کے اصرار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری شہید اور 16 زخمی ہوئے جبکہ متعدد شہری اب بھی گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عدن کے معسکر بدر میں سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر اور اسلحہ ڈپو نشانہ بنایا گیا، یمنی فوجی ذرائع

ڈاکٹر عمر البخیتی نے گزشتہ روز صوبہ ذمار کے ضلع ضوران آنس کے علاقے قاع الحقل کے دیہات العر اور برزاء میں شہریوں کے گھروں پر کلسٹر بموں سے کیے گئے حملے کی بھی مذمت کی، جس میں تین بچے شہید اور خواتین سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے گھروں کو مسلسل نشانہ بنانا اور کلسٹر بموں جیسے بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ یمنی شہریوں کا قتل سعودی کارروائیوں کا بنیادی ہدف ہے۔

یمنی حکومت کے ترجمان نے یمنی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور نسل کشی پر عالمی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاموشی عالمی منافقت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے، جبکہ بعض حکومتوں اور نظاموں نے پیٹرو ڈالر کے عوض اپنی ساکھ بیچ کر ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف جھوٹے اور بہتان پر مبنی مؤقف اختیار کر رکھے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جرائم یمنی عوام کا عزم نہیں توڑ سکیں گے بلکہ 12 برس سے جاری جارحیت اور محاصرے کے مقابلے میں اپنی سرزمین اور وسائل کے جائز دفاع میں استقامت اور مزاحمت کے جذبے کو مزید بھڑکائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جارحیت میں دسیوں ہزار شہری شہید ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ادویات کی قلت اور علاج کے لیے بیرون ملک سفر نہ کر سکنے کے باعث محاصرے نے 14 لاکھ یمنیوں کی جان لے لی۔

7:21 شام اکتوبر 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔