ذمار میں سعودی کلسٹر بمباری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے شہید، 15 افراد زخمی، یمنی وزارت صحت
شیعیت نیوز : یمن کی وزارت صحت و ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ ذمار کے ضلع ضوران آنس کے گاؤں العر میں شہریوں کے گھروں پر آل سعود کے جنگی طیاروں کی جانب سے عالمی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بموں سے کی گئی بمباری میں ایک ہی خاندان کے تین بچے شہید جبکہ خواتین سمیت 15 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے مظلوم عوام پر بمباری بند کی جائے، پاکستان کو اس تنازع میں نہ دھکیلا جائے، علامہ مقصود ڈومکی
وزارت صحت نے جمعہ کے روز جاری ابتدائی بیان میں تین بچوں کی شہادت اور 9 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد 18 تک جا پہنچی۔ وزارت نے رہائشی علاقوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یمن کے نہتے عوام کے خلاف جاری جرائم کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
یمن کے قومی ادارہ برائے انسانی حقوق نے اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے اور تین خواتین شامل ہیں، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی ہے جس کا حمل بمباری کے باعث ضائع ہو گیا۔ ادارے نے کہا کہ پرامن رہائشی بستیوں کو نشانہ بنانا اور بچوں اور عورتوں کا قتل روم اسٹیچوٹ کی شق 8 کے تحت مکمل جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، 2008 کے کنونشن کے تحت ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال یمنیوں کا خون بہانے میں خطرناک اضافہ ہے، اور اس کی مکمل قانونی و فوجداری ذمہ داری سعودی رجیم پر عائد ہوتی ہے۔ ادارے نے اقوام متحدہ، یونیسف اور اقوام متحدہ کے خواتین کے ادارے سے مجرمانہ خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا۔
اسی روز صوبہ تعز کے ضلع الوازعیہ کی عزلہ المشاولہ میں سعودی طیاروں نے ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا جس میں ایک شہری شہید اور ایک خاتون سمیت چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ صعدہ کے سرحدی ضلع شدا میں سعودی گولہ باری سے ایک شہری شدید زخمی اور باقم و منبہ میں تین افریقی تارکین وطن زخمی ہوئے۔ یمنی وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے شروع ہونے والی حالیہ سعودی جارحیت میں اب تک 124 یمنی شہری شہید اور 327 زخمی ہو چکے ہیں۔







