انصارالله کی مزاحمت اور استعمار کی طاقت
شیعیت نیوز : ممتاز تجزیہ کار مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری نے یمن جنگ کے حوالے سے اپنے ایک تفصیلی و تجزیاتی مقالے میں کہا ہے کہ تاریخ کا یہ مستقل اصول ہے کہ طاقت ہمیشہ حق کی دلیل اور کمزوری شکست کی علامت نہیں ہوتی۔ انصاراللہ یمن کی طویل مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید ترین طیاروں، میزائلوں، بے پناہ دولت اور عالمی پشت پناہی کے باوجود کسی زندہ قوم کے سیاسی ارادے اور خودمختاری کے عزم کو محض طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا کرامت حسین نے اپنے مقالے میں واضح کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل سمیت دیگر عالمی و علاقائی قوتوں کی مسلط کردہ اس جنگ اور بیرونی مداخلت نے یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ تاہم، کم وسائل کے باوجود انصاراللہ کے میزائلوں اور ڈرونز نے جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کو چیلنج کر کے مخالفین کے لیے سنگین سلامتی کے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ انصاراللہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے ختم کرنے کے خواہش مند فریق آج تک اسے یمن کے سیاسی اور جنگی منظرنامے سے خارج نہیں کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں : جامعۃ المنتظر لاہور میں ’ای بک لائبریری بیادِ علامہ اختر عباس نجفیؒ‘ کا شاندار افتتاح
جنگ کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اس طویل تنازعے کے اصل مظلوم یمنی عوام ہیں، جو بدترین انسانی اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔ مقالے کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن کا مسئلہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی حل اور خودمختاری کے احترام سے حل ہوگا۔ یمن کو مزید بموں اور بیرونی دباؤ کی نہیں، بلکہ ایسے پائیدار امن، انصاف اور خودمختاری کی ضرورت ہے جس میں یمنی عوام عزت کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔







