انقلاب اسلامی عالمِ اسلام اور انسانیت کا ترجمان انقلاب ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے انقلاب اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران میں انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی رہبری میں بھرپور عوامی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا اور آج بھی آیت اللہ العظمیٰ خامنہای کی رہبری میں قائم ہے۔
انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی جن اہداف کے لیے برپا کیا گیا وہ ایسے ہیں کہ جو پوری امت مسلمہ کو متحد و متفق کرتے ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا نفاذ ہو، شریعت کی بالا دستی ہو، تفرقے اور انتشار کا خاتمہ ہو، اتحاد کی فضا قائم ہو۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں، تفرقہ بازی اور انتشار اور اس کے اسباب و عوامل کے خاتمے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیں : یہ الٰہی انقلاب ہے جس نے مظلوم قوم کو خودداری اور خود انحصاری کی طاقت دی، علامہ سید حسنین عباس گردیزی
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا: انقلاب اسلامی ایران نے اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ اور امت مسلمہ کو استعماری و سامراجی قوتوں کے مذموم عزائم سے باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور آج یہ جدوجہد ایک اہم ترین موڑ میں داخل ہو چکی ہے چنانچہ عالمی استعمار خائف ہو کر نت نئی سازشوں میں مشغول ہے، انقلاب اسلامی کی یہ جدوجہد بالآخر کامیاب و کامران ہوگی۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ یہ محض عارضی اور مفاداتی انقلاب نہیں بلکہ شعوری انقلاب ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انقلاب عالم اسلام اور انسانیت کا ترجمان انقلاب ہے۔ جس کے لیے سینکڑوں علماء، مجتہدین، مجاہدین، اسکالرز، دانشور اور قائدین نے اپنے خون، اپنی فکر، اپنے قلم، اپنی صلاحیت، اپنے عمل، اپنے سرمائے اور اپنے خاندان کی قربانیاں دے کر انقلاب اسلامی کی عمارت استوار کی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینیؒ نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلوؤں سے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ تمام سازشوں، مظالم، زیادتیوں، محاصروں، پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے باوجود آیت اللہ سید علی خامنہای کی رہبری میں انقلاب اسلامی ایران کرۂ ارض پر ایک طاقتور انقلاب کے طور پر جرات و استقامت کی بنیادیں فراہم کر رہا ہے۔ عالمی سامراج کے امت مسلمہ کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات کے پیش نظر ہم زندہ اور باوقار قوم کے طور پر دنیا میں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے متحد ہونا پڑے گا، گروہی اور مسلکی حصاروں سے دست کش ہونا پڑے گا اور اپنے اندر جذبہ اور استقامت پیدا کرنا پڑے گی۔







