امام موسیٰ کاظمؑ کی وہ تاریخی پیش گوئی جو آج قم کے طلبہ اور علماء کی استقامت میں سچ ہو رہی ہے
شیعیت نیوز : بحار الانوار (جلد 60، صفحہ 216) میں منقول ایک عظیم روایت میں حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
رَجُلٌ مِن أهلِ قُم يَدعُو النّاسَ إلَي الحَقِّ يَجتَمِعُ مَعَهُ قَومٌ كَزُبَرِ الحَديِدِ
ترجمہ: "اہل قم میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا اور لوگ فولاد کے ٹکڑوں کی طرح (انتہائی مضبوط اور ناقابل شکست) ہو کر اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔”
یہ روایت قم کی عظیم علمی و انقلابی شخصیت کو بیان کرتی ہے۔ آج قم المقدسہ حوزہ علمیہ کا مرکز، طلبہ اور علماء کی وہ جماعت ہے جو فولاد سے بھی زیادہ مضبوط عزم اور استقامت کے ساتھ حق کی دعوت دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم انقلاب کی منظوری: 2108 قیدیوں کو معافی یا سزاؤں میں کمی کا اعلان
امام موسیٰ کاظمؑ کی یہ پیش گوئی صدیوں بعد پورے عزم اور شدت سے سچ ثابت ہو رہی ہے۔ قم کے طلبہ اور علماء نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں اور مستضعفین کے لیے امید کی کرن بن چکے ہیں۔ وہ دشمن کی تمام دھمکیوں، پابندیوں اور سازشوں کے باوجود حق کی راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کی جمعیت "زبر الحدید” (فولاد کے ٹکڑوں) کی مانند ناقابل شکست ہے۔
یہ روایت آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے جب:
- طوفان الاقصیٰ نے صہیونی رژیم کی کمزوری بے نقاب کر دی
- عالمی استکبار ایران اور اس کے حامیوں کو دبانے کی پوری کوشش میں مصروف ہے
- لیکن قم کے طلبہ اور علماء کی استقامت اور وحدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے
اللّٰھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجہم رحمۃ اللہ علی جمیع شہداء الحق و علماء الحق
یہ روایت ہر شیعہ کے لیے فخر اور عزم کی علامت ہے۔ قم کے وہ لوگ جو آج بھی حق کی دعوت دے رہے ہیں، وہی "رجل من أهل قم” ہیں جن کے گرد "قوم کزبر الحدید” جمع ہیں۔







