کالعدم سپاہ صحابہ کا گنجا ٹکلا دہشتگرد آفتاب نذیر شیعہ برادری پر پھر بھونکنے لگا، راجہ ناصر عباس کو ایرانی پراکسی کہہ کر نشانہ بنایا

25 جنوری, 2026 13:19

شیعیت نیوز : پاکستان میں فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی علامت بن چکی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے بدنام زمانہ کارکن اور گنجے ٹکلے آفتاب نذیر نے ایک بار پھر اپنی زہریلی زبان سے شیعہ برادری اور ایران کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔

یہ وہی آفتاب نذیر ہے جو دن رات ٹوئٹر (اب ایکس) پر بیٹھ کر شیعہ مسلمانوں کے خلاف بھونکتا رہتا ہے، جیسے کوئی کتا اپنے مالک کی حفاظت کر رہا ہو۔ حال ہی میں اس نے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خلاف ایک طویل اور نفرت بھری پوسٹ شیئر کی، جس میں اس نے راجہ صاحب کو ایرانی پراکسی اور پاکستان دشمن قرار دے کر اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا ثبوت دیا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آفتاب نذیر خود ایک دہشت گرد تنظیم کا حصہ رہا ہے، جو شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور فرقہ وارانہ فسادات کے لیے بدنام ہے۔

آفتاب نذیر، جو خود کو "سوشل ایکٹیوسٹ، کنٹنٹ کریئٹر اور فری لانس جرنلسٹ” کہتا ہے، دراصل کالعدم سپاہ صحابہ کا ایک فعال رکن اور پروپیگنڈہ مشین ہے۔ اس کی ٹوئٹر ہینڈل @Aftab_Nazir پر نظر ڈالیں تو ہر پوسٹ شیعہ مخالف زہر سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر، اس نے حال ہی میں گلگت بلتستان اور پاڑہ چنار کے حوالے سے پوسٹس کیں، جن میں وہ "تکفیری ملا” اور "اہلسنت” کے خلاف ایرانی سازشوں کا الزام لگاتا ہے، اور بالواسطہ شیعہ برادری کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کی ایک پوسٹ میں وہ کہتا ہے کہ "بھاری اسلحہ کی ایران سے ترسیل جاری ہے” اور "ایران تا ہندوستان انکے ہمنوا ہیں” – یہ واضح طور پر شیعہ مسلمانوں کو پاکستان دشمن قرار دینے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی میں پولیس مقابلہ، کالعدم سپاہِ صحابہ سے تعلق رکھنے والا انتہائی مطلوب دہشتگرد بھتہ خور جہنم واصل

یاد رہے کہ سپاہ صحابہ پاکستان ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو شیعہ مسلمانوں کے خلاف متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ اس تنظیم کے بانی حق نواز جھنگوی کی کہانی پر آفتاب نذیر نے ایک پوڈ کاسٹ کیا، جس میں وہ اس دہشت گرد کو "مولانا” کہہ کر پیش کرتا ہے – یہ واضح ثبوت ہے کہ آفتاب نذیر کی وابستگی کالعدم گروپ سے ہے۔

مزید برآں، 2003 میں کراچی میں ایک آفتاب نذیر کو 30 ڈائنامائٹ اسٹکس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ کیا یہ وہی آفتاب نذیر ہے جو اب ٹوئٹر پر بیٹھ کر نفرت پھیلا رہا ہے؟ اس کی شیعہ مخالف پوسٹس دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ وہ اب بھی وہی پرانی ذہنیت کا شکار ہے۔

آفتاب نذیر کی یہ بھونکنے والی عادت نئی نہیں۔ وہ دن رات شیعہ رہنماؤں جیسے راجہ ناصر عباس جعفری پر حملہ آور رہتا ہے، انہیں "فرقہ پرست تکفیری” کہتا ہے اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر کو بہانہ بنا کر پاکستان کی قومی سلامتی پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آفتاب نذیر جیسے لوگ خود پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ کالعدم تنظیموں کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں، جو لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد شاخوں سے منسلک ہیں۔

فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس کی نفرت انگیز ویڈیوز گردش کرتی ہیں، جہاں وہ "یوم علی” کو نشانہ بنا کر شیعہ برادری کو اشتعال دلاتا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ اس جیسے فرقہ پرستوں پر کڑی نظر رکھیں۔ آفتاب نذیر کی پوسٹیں نہ صرف شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہیں بلکہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا کام کرتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد پاکستان کی بنیاد ہے، اور آفتاب نذیر جیسے گنجے ٹکلے دہشت گرد اسے توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ اس کی پروپیگنڈہ مشین کو مسترد کریں اور قومی یکجہتی کا ساتھ دیں۔

2:09 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top