کعبۃ اللہ کی توہین، دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے! مفتی تقی عثمانی بھی خاموش

19 نومبر, 2024 17:05

 شیعیت نیوز: سعودی عرب میں ریاض فلم فیسیٹول کے دوران خانہ کعبہ کی بدترین توہین پر دنیا بھر کے مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں۔

”ریاض سیزن فیسٹیول 2024“ کی افتتاحی تقریب اس وقت ایک بڑے تنازعے کا شکار ہے اور اس تنازعے کی وجہ اسٹیج پر نصب اسکرین ہے۔

پروگرام کی جو ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں ان میں مبینہ طور پر اسٹیج پر موجود اسکرین کی شکل خانہ کعبہ سے مشابہہ ہے اور اس کے اردگرد فنکاروں کے رقص اور موسیقی کو اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل تقریب کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسٹیج پر موجود اسکرین خانہ کعبہ جیسی نظر آتی ہے۔

اس پر مزید تنازع تب ہوا جب اس اسٹیج پر فنکار رقص کرتے ہوئے نظر آئے اور موسیقی کی دھنوں پر پرفارم کرنے لگے۔

کئی افراد نے اس منظر کو خانہ کعبہ کے طواف کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اسے مقدس مقام کی توہین قرار دیا۔

سرزمین توحید یعنی حجاز مقدس، جو موجودہ دور میں سعودی عرب کہلاتا ہے، میں آج سے 1400 سال قبل خالق کائنات و مالک کُل اللہ جلالہ نے اپنے آخری اور محبوب ترین رسول حضرت محمد مصطفیٰ ص کو بھیجا تاکہ وہ اس سرمین کو بت پرستی، جہالت اور پستگی سے نکال کر وحدانیت، شعور اور بلندی کی طرف رہنمائی کریں۔

رسول اکرم ص کی شب و روز کی محنت، اقرباء کی قربانیوں اور شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر اس سرزمین کو بت پرستی سے پاک کر دیا۔

جس کی عظیم ترین مثال خود رسول اللہ ص کا  اپنے وصی و جانشین مولاء کائنات، اسد اللہ، عین اللہ و ید اللہ حضرت علی علیہ السلام کو اپنےکاندھوں پر سوار کر کے خانہ کعبہ میں موجود تمام بتوں کو توڑ کر اسے بت پرستی سے پاک کرنا تھا۔

اس کے بعد اللہ بزرگ و برتر نے اس خانہ کعبہ کو مسلمانوں کے لیے قبلہ قرار دے کر اسے کعبۃ اللہ میں تبدیل کیا جس کی جانب رخ کر کے تمام مسلمان نماز و دیگر عبادات انجام دیتے ہیں۔

یہی کعبۃ اللہ حج و عمرہ میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے جس کے گرد تمام مسلمان جمع ہو کر طواف کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج اسی سرزمین توحید پر کعبہ کے پہرے داروں کی زیر نگرانی کعبۃ اللہ کی توہین کی جا رہی ہے لیکن مجال ہے کہ انکے طرفداروں اور اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی جانب سے اس عمل کے خلاف کوئی آواز احتجاج بلند ہوئی ہو۔

یہ بھی پڑھیئے : ضحک و برزخ نامی گیمز میں حضرت فاطمہؑ، انبیاءؑ، اورخانہ کعبہ سمیت مسلمانوں کے مقدسات کی توہین، امت مسلمہ سراپا احتجاج

حال ہی میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی وزارت ثقافت کے اور ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ایک عدد فیشن ویک کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر کی نیم برینہ ماڈلز اور مختلف گلوکاراوں نے شرکت کر کے "کیٹ واک” اور "ناچ گانے” کی محافل سجائی

جبکہ اس قبیح عمل کو انجام دینے کے لیے جو اسٹیج بنایا گیا جس پر یہ غیر اسلامی و غیر اخلاقی محافل برپا کی گئیں۔

حیرت انگیز طور پر اس اسٹیج کے وسط میں ہو بہو کعبۃ اللہ کاماڈل بھی لگایا گیا جس کے گرد 1400 سال بعد ایک بار پھر بتوں کے مجسمے رکھے گئے جس کے اطراف نیم برہنہ ماڈلز نے واک کی اور فحش گلوکاراوں نے غنا کی محافل سجائیں۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کعبۃ اللہ کی اس توہین پر عالم اسلام کے تمام غیرت مند مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور سوشل میڈیا پر کھل کر اس عمل کی مزمت کر رہے ہیں

لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان میں موجود سعودی عرب کے پالتو اور انکے دسترخوان کی چوسی ہوئی ہڈیاں چبانے والے، اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار جو اپنے مخالفین پر زرا زرا سی بات پر کفر و شرک کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری کرنے سے بھی باز نہیں آتے وہ کعبۃ اللہ کی اس شدید ترین توہین پر مکمل خاموش ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار اسلام سے زیادہ سعودی عرب کے وفادار ہیں کیونکہ سعودی عرب انکی مالی امداد کرتا ہے اسی لیے کعبۃ اللہ کی توہین پر بھی یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوئے بلکہ "گاندھی کے بندروں” کی طرح انہوں نے بھی اپنی آنکھیں، زبان اور کان بند کر لیے ہیں، کیونکہ اگر یہ اس توہین پر کچھ بولتے ہیں تو انکی مالی امداد بند ہو سکتی ہے

  انکے مدارس و ادارے بند ہو سکتے ہیں جنکے زریعے یہ اپنے باطل نظریات معاشرے میں پھیلا کر دوسروں کے خلاف شدت پسندی اور تکفیریت کو پروان چڑھاتے ہیں تاکہ وقت آنے پر اپنے آقاؤں کے اشاروں پر انکے مفادات کا تحفظ کر کے اسے "جہاد” کا نام دے سکیں۔

افسوس کہ گاندھی کے یہی بندر اسلام سے زیادہ سعودی عرب کے وفادار ہیں، جنہیں کعبۃ اللہ کی توہین بھی نظر نہیں آتی، یہی وہ لوگ ہیں جنکے باعث دنیا کی حالیہ تاریخ میں یہ عالمی سطح پر اسلام کی بدنامی کا سبب بنے ہیں۔

9:46 صبح مارچ 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔