دنیا ایک نئے باب یعنی منتقلی دور میں داخل ہو رہی ہے، میجر جنرل محمد باقری
شیعیت نیوز: ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی دفاعی طاقت کو اس بلند و بالا چوٹی پر پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے تا کہ ہمارے بیوقوف دشمن ہماری سرزمین کے خلاف جارحیت کرنے کے تصور سے بھی خوفزدہ ہوجائیں۔
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے 40 سالہ سرد جنگ کی تبدیلیوں اور پھر اس کے بعد یک قطبی تسلط کی ناکامی اور امریکی طاقت کے زوال کا آغاز اور مغربی خطے میں اس ملک کی حکومت کے دس ہزار ارب کے اخراجات کا بے اثر ہونے اور روس اور چین کی طاقت کی بحالی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کے اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک نئے باب یعنی منتقلی دور میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صورتحال میں ایران کے داخلے سے ملک کے خلاف دشمن کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی عمارت کی بینادیں یکے بعد دیگرے گر گئیں اور اس سلسلے میں ایرانی مسلح افواج کا کردار بہت اہم تھا۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق میں امریکی موجودگی کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ہے، ایرانی صدر
دوسری جانب ایران کی فوج کے بری شعبے کے کمانڈر نے اسلامی انقلاب کو نابود کر دینے کے مقصد سے علاقے کے ملکوں میں جاری دشمن کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج نوبت یہ ہو گئی ہے کہ وہ ایران کے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی رینج میں آ جانے سے خوفزدہ ہیں اور بھاگ رہے ہیں، ان کی کھوکھلی ہیبت و شان مٹی میں مل چکی ہے۔
بریگیڈیر جنرل کیومرث حیدری نے بدھ کے روز فوجی قم کے 565 شہیدوں کی یاد میں منائی گئی تیسری تقریب میں مزید کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس دنیا کے فضائی دفاعی نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے قائد اسلامی انقلاب کی ترکی اور روس کے صدور کی حالیہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر نے ان ملاقاتوں میں ان دونوں ممالک کی حکمت عملی اور طاقت پر مبنی بعض اقدامات کی تصدیق اور بعض کی تردید کرتے ہوئے علاقائی سرحدوں کی عدم تبدیلی پر زور دیا۔
جنرل حیدری نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے کمانڈرز نے اپنی قربانیوں اور جد و جہد سے خالص اسلام اور مزاحمتی فرنٹ کو بحیرہ روم کی سرحدوں تک پہنچا جو گزشتہ دہائیوں میں بے مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور افواج نے انقلاب کی اقدار اور نظریات سے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو دور نہیں کیا ہے اور وہ انقلاب کے آغاز کے مقابلے میں سپریم لیڈر کے سائے میں زیادہ اختیار اور طاقت کے ساتھ قومی اقتدار کی راہ پر گامزن ہیں۔







