مشرق میں امریکی موجودگی کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ہے، ایرانی صدر
شیعیت نیوز: ایرانی صدر نے کہا ہے کہ فرات کے مشرق میں امریکی موجودگی کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ہے اور امریکہ کو اس علاقے سے نکل جانا چاہیے۔
یہ بات سید ابراہیم رئیسی نے آستانہ کے عمل کے ضامن ممالک کے ساتواں سربراہی اجلاس کے انعقاد کے بعد اپنے ترکی اور روس کے ہم منصوبوں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیں : تفرقہ اندازی دشمن کی اصل پالیسی ہے، حسین امیر عبداللہیان
انہوں نے فرات کے مشرق میں امریکی موجودگی کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ہے اور امریکہ کو اس علاقے سے نکل جانا چاہیے۔
رئیسی نے شام کو مزاحمت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تشویش شام اور ادلب میں دہشت گردوں کی موجودگی ہے جو تمام ممالک کو سنجیدگی سے دہشت گردی کے خلاف نمٹنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ اقدام پرامن ہوگا۔
انہوں نے شامی مظلوم عوام کو انساندوستانہ امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔
ایرانی صدر مملکت نے کہا کہ شام کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کیلیے کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہیے اور تمام ممالک اس ملک کی خودمختاری کیلیے کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت کو تیل و گیس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائےگی ، سید حسن نصراللہ
ایرانی صدر نے بتایا کہ اس اجلاس میں بانی ممالک کے صدور نے شامی عوام کے خلاف صہیونی رجیم کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کے خاتمے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ شامی عوام اور فوجی فورسز کے خلاف حملہ شامی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
صدر رئیسی نے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے کہا کہ دوسرے ممالک میں پناہ لینے والے افراد کو جلد از جلد اپنی سرزمین پر واپس جانا چاہیے۔







