جوہری مذاکرات میں معاشی مفادات کی ضمانت ہونی چاہیے، ایرانی اسپیکر قالیباف
شیعیت نیوز : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی گیارہویں حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جوہری مذاکرات میں معاشی مفادات کی ضمانت ہونی چاہیے.
یہ بات محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے ایٹمی مذاکرات کو چاہیے کہ ایران کے معزز عوام کے لیے یقینی، پائیدار اور ٹھوس اقتصادی فوائد کے حصول کا باعث بنے۔
اسپیکر قالیباف نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے قومی دن کی آمد پر ایران کی معزز اور قابل فخر قوم اور ملک کی ایٹمی صنعت کے تمام اہلکاروں اور سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے حالیہ برسوں میں جوہری صنعت میں قابل ذکر اور شاندار پیشرفت جوہری شہداء کے سائنسدانوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔
ایرانی اسپیکر نے بتایا کہ ایرانی 11ویں پارلیمنٹ نے ایٹمی صنعت پر تالے توڑ دیئے۔
یہ بھی پرھیں : ایرانی سفارتی مقامات کی حفاظت افغانستان کی گورننگ باڈی کی یقینی ذمہ داری ہے، خطیب زادہ
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایک اجلاس سے خطاب میں امریکہ کے رویہ پر گروپ 1+4 کی تنقید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم اپنی ریڈ لائنوں سے عبور نہیں کریں گے۔ امیر عبداللہیان نے کہا کہ ویانا مذاکرات میں گروپ 1+4 کے ارکان بھی امریکہ کے رویہ سے خوش نہیں ہیں۔ امریکہ مذاکرات میں تعمیری کردار ادا نہیں کررہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم پابندیوں کے مکمل خاتمہ کے خواہاں ہیں لیکن ہم اپنی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کو ویانا مذاکرات سے منسلک نہیں کریں گے۔
امیر عبداللہیان نے کہا کہ امریکہ پابندیوں کے خاتمہ کے سلسلے میں اپنے شرائط مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے جو مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روح کے خلاف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایک اچھے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں لیکن امریکہ اب بھی اپنے شرائط مسلط کرنے کی کوشش کرہا ہے جو ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں ایران کا کوئي فائدہ نہیں۔ ہم اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے، البتہ ہمیں اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں اپنی اندرونی توانائيوں پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔







