مولاعلیؑ کے طرزقضاوت کی پیروی معاشرے میں نظام انصاف پر کھویا اعتماد بحال کرسکتی ہے، علامہ سید احمد اقبال رضوی
شیعیت نیوز: لاہور ہائیکورٹ میں سالانہ یوم علی علیہ السلام منعقد کیا گیا جس میں شیعہ، سنی وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل حجت الاسلام و المسلمین مولانا سید احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے قانون کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ رسول ص کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام اس امت میں بہترین قاضی ہیں، اس کی مثال خلفائے راشدین کا دور ہے جس میں جب بھی صحابہ کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی تو وہ مولا علی علیہ السلام کو مدد کے لیے پکاڑتے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر رضی ، حضرت عمر رضی اور حضرت عثمان کو بھی کہنا پڑا کہ اگر علی نہ ہوتے ہم ہلاک ہوجاتے اس چیز سے مولا علی علیہ السلام کی ذات اور ان کے فیصلہ جات کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمِ مسیحیت کے روحانی پیشواپاپ فرانسس اورحضرت آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے درمیان ملاقات 5 مارچ کو ہوگی
انہوں نے وکلاء کمیونٹی سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا اس ملک میں موجود نہ صرف مسلم وکلاء بلکہ پوری دنیا کے غیر مسلم وکلاء اور عدالتیں اگر انصاف کرتے ہوئے مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات اور مولا علی علیہ السلام کی ذات کو سامنے رکھیں تو اس معاشرے میں انصاف قائم ہو سکتا ہے اور جو عوام کا اعتماد اس نظام انصاف سے اٹھ گیا ہے وہ بھی بحال ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعزیتی ریفرنس” بیاد سید سلمان مجتبیٰ نقوی (مرحوم) “کا آرٹس کونسل آف پاکستان میں انعقاد،سیاسی وسماجی شخصیات کی شرکت
تقریرکا اختتام انہوں نے امام ؑکے جلد ظہور کی دعا سے کیا اور امید ظاہر کی کے انشاءاللہ امامؑ کا ظہور جلد ہوگا اور امامؑ کے ظہور کے ساتھ اس پوری کائنات میں عدل انصاف کا بول بالا ہوگا،انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی وزیر حلف لے تو اسے اُسی حلف نامہ پر حلف لینا چاہیے جو مولا علی علیہ السلام نے مالک اشتر سے گورنر بناتے ہوئے لیا۔







