حضرت فاطمۃ الزہرا (س) بعنوان شریک حیات
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں کچھ لکھنا عام انسان کی بس کی بات نہیں، اس عظیم شخصیت کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے صاحب عصمت اور عالی بصیرت کا حامل ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر آپؑ کے وجود کو کوئی درک نہیں کرسکتا۔ آپ کے فضائل اور مناقب خداوند متعال، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہی بیان کرسکتے ہیں۔ سمندر سیاہی، درخت قلم اور جن و انس لکھنے والے بن جائیں تب بھی آپ ؑ کے فضائل بیان نہیں کرسکتے۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، اسلام کى خواتین کے لئے ازدواجى زندگى کے تمام پہلوؤں پر خوش بختى اور سعادت کے راستوں کا تعىن کرتی ہے، تاکہ دنىا کے سامنے اىک عملى نمونہ ہو۔ اس مختصر مقالہ میں ہم جناب حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بعنوان شریک حیات تمام خواتین کے لئے نمونہ عمل اور اسوہ ہونے کے ناطے کچھ مطالب بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔
1۔ کم توقعات رکھنے والی شریک حیات
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ؑجانتى تھىں که وه اسلام کے سپه سالار کى زوجہ ہیں اور وه شوہر کے حساس مقام کو جانتى تھىں، اس لئے کبھى بھى حضرت على ؑسے کسى ایسى خواہش کا اظہار نہیں کىا، جو ان کى اسلامى سرگرمىوں مىں رکاوٹ کا سبب بنے۔ اس بارے مىں یوں رواىت بىان ہوئى ہے کہ اىک دن جناب امىر علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ؑسے پوچھا گھر مىں کوئى کھانے کى چىز ہے؟ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے فرماىا: {لَا وَ الَّذِي أَكْرَمَ أَبِي بِالنُّبُوَّةِ وَ أَكْرَمَكَ بِالْوَصِيَّةِ مَا أَصْبَحَ الْغَدَاةَ عِنْدِي شَيْءٌ أُغَدِّيكَهُ وَ مَا كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ مُنْذُ يَوْمَيْنِ إِلَّا شَيْءٌ كُنْتُ أُوثِرُكَ بِهِ عَلَى نَفْسِي وَ عَلَى ابْنَيَّ هَذَيْنِ حَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا فَاطِمَةُ أَ لَا كُنْتِ أَعْلَمْتِينِي فَأَبْغِيَكُمْ شَيْئاً فَقَالَتْ يَا أَبَا الْحَسَنِ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ إِلَهِي أَنْ تُكَلِّفَ نَفْسَكَ مَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْه ۱} نہیں اس ذات کى قسم جس نے میرے بابا کو نبوت کا شرف بخشا اور آپ کو ان کا برحق وصی بنایا! دو دن سے ہمارے گھر مىں کھانے کى کوئى چىز موجود نہیں ہے۔ حضرت على علیہ السلام نے فرماىا: آپ نے مجھے کىوں نہیں بتاىا؟ جواب دیا: "مجھے الله سے شرم آتى ہے کہ مىں آپ کو اس بات کى زحمت دوں کہ جو آپ کے لئے ممکن نہ ہو۔”
2۔ ہم راز و ہم نوا
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام دونوں ایک دوسرے کے ہم غم، ہم راز و ہم نوا تھے۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہمىشہ اپنے شوہر کى حوصلہ افزائى کىا کرتى تھىں اور ان کى فداکارى اور بہادرى کو سراہتى تھىں، اس طرح حضرت على علیہ السلام کو آسوده خاطر کرتى تھىں، اپنى بے ریا محبت سے تھکے ماندے جسم اور بدن کے زخموں کو تسکىن دىتى۔ خود حضرت على علیہ السلام فرماىا کرتے تھے:”وَ لَقَدْ كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَتَنْكَشِفُ عَنِّي الْهُمُومُ وَ الْأَحْزَان ۲؛ جب بھی مىں گھر واپس آتا اور زہرا کو دىکھتا تو مىرا تمام غم و اندوه ختم ہو جاتا تھا۔” حضرت على و حضرت فاطمہ زهرا علیہما السلام کا گھر درحقىقت اخلاص اور محبت کا مرکز تھا، میاں بیوى دونوں کمال اخلاص کے ساتھ باہمى مدد سے گھر کے امور چلاتے تھے۔ حضرت على علیہ السلام بچپن ہى سے پىغمبر اسلام کے دامن وحى کے تربىت یافتہ تھے۔ آپ بہترین اسلامى اخلاق اور فضائل کے مالک تھے۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام نے بھى اپنے بابا گرامى کے دامن وحى مىں تربت پائى تھى، آپ لوگوں کے کان بچپن ہى سے قرآن سے مانوس تھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ حضرت على علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ایک دوسرے کا بہت احترام اور خیال رکھتے تھے۔ لیکن کبھی کبھار آپس میں مزاح بھی فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً ایک دن آپس مىں اىک دوسرے سے کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللهؐ مجھ سے زیاده محبت کرتے ہىں، دوسرى طرف سے جواب آتا ہے کہ وہ مجھ سے زىاده محبت کرتے ہیں۔ حضرت على علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم رسول خدا کى خدمت میں چلتے ہیں اور انہی سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ وہ ہم دونوں میں سے کس کو زیادہ دوست رکھتے ہیں؟ پس دونوں بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کى خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے پوچھا ؟{ أَيُّنَا أَحَبُ إِلَيْكَ أَنَا أَمْ عَلِيٌ ع قَالَ النَّبِيُّ ص أَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ وَ عَلِيٌّ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْكَ فَعِنْدَهَا قَالَ سَيِّدُنَا وَ مَوْلَانَا الْإِمَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَ لَمْ أَقُلْ لَكَ أَنَا وَلَدُ فَاطِمَةَ ذَاتِ التُّقَى قَالَتْ فَاطِمَةُ وَ أَنَا ابْنَةُ خَدِيجَةَ الْكُبْرَى قَالَ عَلِيٌّ وَ أَنَا ابْنُ الصَّفَا قَالَتْ فَاطِمَةُ أَنَا ابْنَةُ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى قَالَ عَلِيٌّ وَ أَنَا فَخْرُ الْوَرَى قَالَتْ فَاطِمَةُ وَ أَنَا ابْنَةُ دَنا فَتَدَلَّى وَ كَانَ مِنْ رَبِّهِ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى قَالَ عَلِيٌّ وَ أَنَا وَلَدُ الْمُحْصَنَاتِ قَالَتْ فَاطِمَةُ أَنَا بِنْتُ الصَّالِحَاتِ وَ الْمُؤْمِنَات؛۳ آپ مجھ سے زىاده محبت کرتے ہىں ىا على سے۔؟ تو آنحضرت نے جواب دىا: انت احب الى و على اعز منک؛ اے فاطمہ زهرا! تجھے زیادہ چاہتا ہوں اور علی میرے لئے زیادہ عزیز ہیں۔
اس وقت ہمارے مولا اور سید و سردار نے کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میں فاطمہ (بنت اسد) صاحب تقویٰ کا فرزند ہوں، جناب فاطمہ نے جواب میں کہا: میں خدیجہ کبریٰ کی بیٹی ہوں، علی نے کہا: میں صفا کا بیٹا ہوں، فاطمہ نے کہا: میں سدرۃ المنتہٰی کی بیٹی ہوں، علی نے کہا: میں فخر وریٰ ہوں، فاطمہ نے کہا: میں دنا فتدلی اور قاب و قوسین او ادنی کی بیٹی ہوں۔ علی نے کہا: میں پاک دامن ماؤں کا بیٹا ہوں، تو فاطمہ نے کہا: میں صالحات اور مؤمنات کی بیٹی ہوں۔” حضرت على اور حضرت فاطمہ زہرا علیہما السلام نے الٰہی انعامات کا مذکوره مکالمہ میں ذکر فرمایا ہے، جس سے ہر میاں بیوى کو یہ سبق ملتا ہے کہ فضول اور مادى چىزوں کے ذریعے اىک دوسرے پر فخر نہیں کرنا چاہئے اور اپنى بڑائى بىان نہیں کرنى چاہىے۔
3۔ ساده زندگى
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا حضرت رسول اللهؐ کى تربىت یافتہ تھیں۔ انہوں نے دنیا کى ظاہرى شان و شوکت سے دورى اور سادگى کا درس اپنے بابا سے لیا تھا اور ایثار و قربانى بھى اپنے والدىن سے سیکھى تھى۔ انہوں نے امام علىؑ کے ہمراه اپنى زندگى کو رضاىت خدا کے لئے وقف کر دیا تھا اور جو کچھ ان کے پاس تھا حتٰى کہ اپنے جہىز کو بھى الله کى راه مىں خرچ کر دىا۔ حدیث مىں ذکر ہوا ہے کہ ایک دن حضرت رسول خدا اپنى بیٹى کے گھر آئے تو دیکھا جناب حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا زمین پر بیٹھى ایک ہاتھ سے چکى چلا رہى ہیں اور دوسرے ہاتھ سے بچے کو گود میں لے کر دودھ پلا رہى ہیں تو جناب رسول خدا کى آنکھوں مىں آنسو آگئے فرمایا:”يا فاطمة تعجلي مرارة الدّنيا بنعيم الآخرة (الجنّة)غدا،۴؛ اے فاطمہ دنىا کى مشکلات کو آخرت، بهشت کى مٹھاس کے لئے برداشت کرو۔” حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے جواب مىں فرمایا "الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى نَعْمَائِهِ وَ الشُّكْرُ لِلَّهِ عَلَى آلَائِه؛ حمد و شکر خداوند کے لئے ہے، اس کى لاتعداد نعمتوں کے بدلے مىں۔ تو اس وقت یہ آیہ نازل ہوئى: فأنزل اللّه تعالى وَ لَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضى۵؛ عنقرىب تىرا رب تمهىں اتنا عطا کرے گا کہ تو راضى ہو جائے گا۔
4۔ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری
جناب فاطمہ نے عالمین کی سیدہ ہونے کے باوجود کبھی بھی اپنے شوہر کی اتباع میں لیت و لعل کا مظاہرہ نہیں کیا، آپ ؑ ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام کی مکمل اتباع کرتی تھیں۔ آپ ؑ اپنے شوہر کی اجازت کے بغىر کبھى گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی تھیں،کیونکہ آپ اسلامی تعلیمات کی نہ فقط پابند تھیں بلکہ نسوان عالم کی معلمہ بھی تھیں۔ آپ اس بات سے کاملاً آگاہ تھیں کہ اسلام عورت کو شوہر کى اجازت کے بغىر گھر سے نکلنے سے منع کرتا ہے۔ اگر کوئى عورت ایسا کرے اور شوہر کو غضبناک کرے خداوند عالم اس کى نماز اور روزے کو قبول نہىں کرتا، جب تک اس کا شوہر راضى نہ ہو جائے۔۶
5۔ گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم
حضرت على علیہ السلام گھر کے اندرونى حالات و مسائل سے مکمل طور پر بے فکر تھے اور اپنى شرىک حىات کى حوصلہ افزائى سے بهره مند رہتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ جس قدر مرد کو عورت کى طرف سے اخلاص، محبت اور قدردانى کى ضرورت ہوتى ہے، اسى قدر عورت بھى اس کى طالب ہوتى ہے۔ امام على بھى جناب سیده کى ہر لحاظ سے حوصلہ افزائى فرماتے اور گھر کے کاموں مىں ان کى مدد کرتے تھے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہىں: "كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع يَحْتَطِبُ وَ يَسْتَقِي وَ يَكْنُسُ وَ كَانَتْ فَاطِمَةُ ع تَطْحَنُ وَ تَعْجِنُ وَ تَخْبِزُ؛ ۷ حضرت على گھر کے لئے لکڑىاں اور پانى مہىا کرتے اور گھر کى صفائى کرتے تھے اور جناب حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام چکى پىس کر آٹا گوندھتیں اور روٹى پکاتى تھىں۔” لٰہذا آج کے میاں اور بىوى بھى اس الٰہى جوڑے کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دىں تو گھرىلو زندگى جنت نظىر بنا سکتے ہیں۔ بىوى حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کى طرح شوہر سے بے جا فرمائشات نہ کرے اور شوہر حضرت علىؑ کى طرح اپنى بىوى کى اچھے کاموں مىں مدد کرے، جس طرح مولا کائنات اور حضرت زہرا کے بارے مىں جناب رسول خدا (ص) نے سوال کیا تو انہوں نے آپ ؐکے جواب مىں فرمایا: "فَسَأَلَ عَلِيّاً كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ وَ سَأَلَ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ خَيْرُ بَعْل؛۸ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، الله کى اطاعت مىں مىرى بہترىن مددگار ہیں اور علی میری نسبت بہترین شوہر ہیں۔” خدا ہم سب کو سیرہ بانوی دو عالم فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور ائمہ معصومین علیہم السام پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔
{السّلام علیک أیّتها الصدّیقة الشهیدة الممنوعة إرثُها، المکسور ضلعها، المظلوم بعلها، المقتولِ وَلَدُها}
منابع:
۱۔ محمد باقر مجلسى٬ بحارالانوار٬ تهران٬ 1363٬ ج43 ٬ ص59۔
۲۔ موفق بن احمد خوارزمى٬ المناقب٬ قم٬ جامعه مدرسىن٬ 1411 ٬ص353۔
۳۔ عبدالله بحرانى، اصفهانى٬ عوالم العلوم و المعارف، قم مؤسسه الامام المهدى ٬چ اول،ج11 ٬ص262-266؛ شاذان بن جبرئيل قمى، الفضائل، شاذان بن جبرئيلقم: رضى، 1363 ش، ص80۔
۴۔ ابن شهر آشوب مازندرانى٬ المناقب٬ قم٬ علامه٬ 1379ق ٬ج3 ٬ص 342۔
۵۔ الضحى، آیت5۔
۶۔ ابراهىم امىنى٬ اسلام کى مثالى خاتون٬ مترجم: اختر عباس، سعىد حىدرى٬ دارالثقافه الاسلامىه پاکستان٬ چ، دوم٬ 2001 ٬ص96۔
۷۔ محمد باقر مجلسى٬ بحار الانوار٬ تهران٬ اسلامىه،1353،ج43 ٬ص117۔
۸ ۔ محمد باقر مجلسي، بحار الأنوار، ج43، ص 117








