

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ علاقے میں بہت اہم واقعات رونما ہونے والے ہیں اور مسلمان اقوام کے لئے دینی جمہوریت کی صحیح تشریح کرکے ان واقعات کی سمت کا تعین کرنا اور اس سلسلے میں موجود خلاء کو پر کرنا چاہۓ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ایران کی ماہرین کونسل کے سربراہ اور اراکین سے ملاقات کے دوران مصر ، تیونس ، لیبیا اور یمن میں حالیہ مہینوں میں آنے والے
تغیرات کے بارے میں فرمایا کہ امریکہ اور مغرب کے حمایت یافتہ ڈکٹیٹروں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے گر رہی ہیں ، قوموں کا مستقبل مختلف امکانات کا حامل ہے اور ان امکانات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے دینی ماہرین کے ذریعہ علاقے کے حالات سے متعلق امور کی باگ ڈور سنبھالے جانے کو مذکورہ امکانات میں شامل قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ مختلف شکلوں میں سابق آمرانہ نظاموں کے عوامل کی بازگشت اور ان ممالک میں آزادی و جمہوریت کے لبادے میں مغرب سے وابستہ نظاموں کے قیام کا سنگین خطرہ بھی ان امکانات میں شامل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ان پیچیدہ حالات میں دینی جمہوریت کا نظریہ علاقے کی قوموں کی مدد اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے تحفے اور یادگار کے طورپر ان کی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے۔ اور یہ نظریہ علاقے کی قوموں کا مستقبل روشن کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ خلاء سے دشمنوں کے فائدہ اٹھانے کے سدراہ ہوسکتا ہے۔