عزت کي موت يا ذلت کي زندگي؟

07 نومبر, 2013 09:46

muhram1وہ موت جو ذلت آميز زندگي سے بہتر ہے
سوال: اگر زندگي پر حکمفرما حالات اس طرح سے دگرگوں ہوجائيں کہ اس ميں مۆمن کے لئے عزتمندانہ زندگي بسر کرنا ممکن نہ ہو تو اس حالت ميں ذمہ داري کيا ہے؟
قرآن مجيد کا حکم ہے کہ ايسي صورت ميں مۆمن کا فريضہ کوچ اور ہجرت کرنا ہے اور اگر کوئي شخص اس طرح کے حالات ميں رہے اور ذلت قبول کرلے اور ظالم حکمرانوں کے دباۆ کے تحت اپني ايماني حيات اور ديني فرائض کي انجام دہي سے محروم ہوجائے وہ جان ديتے ہي اور دنيا سے رخصت ہوتے ہي اللہ کے عتاب و عِقاب ميں مبتلا ہوجائے گا-
جب وہ [بعد از موت] بہانہ لائے گا اور ظالموں کے مظالم گنوائے اور ان کے تسلط کي شکايت کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: "کيا خدا کي زميں وسيع نہ تھي؟ تم نے دوسرے ممالک ميں ہجرت کيوں نہيں کي؟
إِنَّ الَّذينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظالِمي‏ أَنْفُسِهِمْ قالُوا فيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفينَ فِي الْأَرْضِ قالُوا أَ لَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فيها فَأُولئِكَ مَأْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ ساءَتْ مَصيراً. (*)
بلاشبہ وہ جنہيں فرشتوں نے دنيا سے اٹھايا اس عالم ميں کہ وہ [ديار کفر سے ہجرت کي ذمہ داري پر عمل نہ کرکے اور کفار و مشرکين اور ظالمين کے زير تسلط رہ کر] اپنے اوپر ظلم کے مرتکب ہوئے، [روح قبض کرنے والے] فرشتے ان سے پوچھتے ہيں کہ ارے!يہ تم کس عالم ميں تھے؟ وہ جواب ميں کہيں گے: ہم دنيا ميں دبے پسے ہوئے اور مستضعف تھے. تو فرشتے ان سے کہيں گے کہ کيا اللہ کي زمين وسيع نہ تھي کہ تم اس ميں [ديار کفر سے دارالايمان کي طرف] ہجرت کر جاتے؟ !يہ ايسے لوگ ہيں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑي بري منزل ہے –

ليکن اگر ظلم و ذلت قبول کرنے کا مسئلہ ہجرت سے بھي حل نہ ہو تو کيا کيا جائے؟ اگر ظلم و جبر کي مشينري اور جابرحکمران اپنے تسلط کي وسعت اور اپني ہمہ جہت طاقت کے ذريعے مۆمن کو دو راہے پر لاکھڑا کرديں کہ يا ذلت قبول کرے يا پھر شہادت کو قبول کردے تو اس کو کيا کرنا چاہئے اور ان دو راہوں ميں سے کونسي راہ پر گامزن ہونا چاہئے-
امام حسين عليہ السلام نے اس سوال کا بارہا جواب ديا ہے-
جواب دوران سفر
سيدالشہداء عليہ السلام کا جواب متن و کلام کے دائرے سے نکل کر لباس عمل پہن ليتا ہے تا کہ سب جان ليں اور اپني آنکھوں سے ديکھ ليں کہ جو کچھ اسلام کے امام و پيشوائے بر حق کہتے ہيں سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل کرتے اور اپنے آپ کو اس فريضے کا پابند سمجھتے ہيں- (1)
تاريخ طبري ميں عقبة بن ابى عيزار کے حوالے سے منقول ہے:
حسين عليہ السلام نے ذى حُسُم (2) کے مقام پر حمد و ثنائے الہي کے بعد فرمايا: "امور و معاملات کچھ ايسے ہيں کہ آپ ديکھ رہے ہيں! دنيا بدل گئي ہے اور بھونڈے پن کي طرف مائل ہوگئي ہے- اس کي خير و نيکي رخصت ہوگئي ہے اور مسلسل بد سے بدتر ہورہي ہے اور اس ميں سے کچھ بھي نہيں رہا سوائے قليل کے، ايک برتن کي تہہ ميں پاني کے قطرے کي مانند اور ايک ناچيز معاش کے سوا، جو بےگھاس کي چراگاہ کي مانند ہے-
……………….
مآخذ:
1- اميرالمومنين عليہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمايا: "وَ اللَّهِ مَا أَمَرْتُكُمْ بِطَاعَةِ إِلَّا وَ قَدْ ائْتَمَرْتُ بِهَا وَ لَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ إِلَّا وَ قَدِ انْتَهَيْتُ عَنْهَا”؛ خدا کي قسم! ميں نے تم کو جو بھي حکم ديا خود بھي اس پر عمل کيا اور جس چيز سے بھي ميں نے روکا خود بھي اس سے اجتناب کيا- "تأويل الآيات الظاهرة في فضائل العترة الطاهرة ص124”-
2- منطقه اي که مختصات آن به شکل تقريبي در غرب بصره و جنوب کربلا قرار دارد.

اس کے بعد امام (ع) نے ابد تک زندہ جاويد رہنے والي وہ تاريخي عبارت ادا فرمائي:
"ألا تَرَونَ أنَّ الحَقَّ لا يُعمَلُ بِهِ ، وأنَّ الباطِلَ لا يُتَناهى عَنهُ ! لِيَرغَبِ المُۆمِنُ في لِقاءِ اللّه ِ مُحِقّا ؛ فَإِنّي لا أرى المَوتَ إلّا شَهادَةً ، ولا الحَياةَ مَعَ الظّالِمينَ إلّا بَرَما”- (3)
کيا تم نہيں ديکھتے کہ حق پر عمل نہيں ہورہا اور باطل سے پرہيز نہيں کيا جارہا، بے شک مۆمن کو حق حاصل ہے کہ لقاء اللہ (موت) کي طرف رغبت رکھے پس ميں موت کو شہادت [اور بروايت مشہور سعادت (4)] سمجھتا ہوں اور ظالمين کے ساتھ زندگي کو باعث رنج و تکليف سمجھتا ہوں”-
ايک جواب ميدان جنگ ميں
سيد بن طاووس اپني کتاب اللہوف (يا الملہوف) ميں لکھتے ہيں:
ابن سعد کے ماتحت اشقياء اپني سواريوں پر سوار ہوگئے تھے- حسين عليہ السلام نے [بزرگ صحابي اور قاري و حافظ قرآن] برير بن حصين کو انہيں نصيحت کرنے کے لئے روانہ کيا؛ ليکن اشقياء کوئي اثر نہيں ہوا اور انھوں نے کوئي توجہ نہ دي-
حسين عليہ السلام اپنے اونٹ (اور بقولے اپنے گھوڑے) پر سوار ہوئے اور لشکر اشقياء کے سامنے پہنچ کر انہيں خاموش کرايا اور وہ خاموش ہوگئے-
امام (ع) نے حمد و ثنائے الہي اللہ کي ياد اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور ديگر انبياء اور فرشتگان الہي پر درود و سلام بھيجنے کے بعد فصاحت و بلاغت کے ساتھ ارشاد فرمايا: موت اور نابودي ہو تم پر اے جماعت! تم نے شوق و شيدائي کے ساتھ ہميں مدد کے لئے بلايا اور ہم تيزي سے تمہاري مدد کو آئے؛ ليکن تم نے …..
………………..
مآخذ:
3- صحيفہ امام حسين (ع) کے صفحہ 278 پر امام کے کلام کے ضمن ميں يہ عبارت مندرج ہے: فاني لا ارى الموت الا سعادة ولا الحياة مع الظالمين الا برما. اور مراد يہاں يہ ہے کہ "ميں موت کو سعادت سمجھتا ہوں اور —-
4. تاريخ الطبري : ج 5 ص 4ظ 3.

امام (ع) نے فرمايا: … ہم تيزي سے تمہاري مدد کو آئے؛ ليکن تم نے ہمارے حق مين اٹھنے والي تلوار ہمارے مد مقابل آ کر سونت لي اور وہ آگ جو ہم اور تم نے مشترکہ دشمن کے خلاف بھڑکائي تھي اس کا رخ تم نے ہماري جانب پلٹا ديا؛ اور تم اپنے دوستون کے خلاف دشمنوں کے ساتھ متحد ہوگئے؛ جبکہ اس (دشمن) نے نہ تو تمہارے درميان عدل و انصاف قائم کيا تھا اور نہ ہي تم کو اس سے کوئي اميد ہے-
وائے ہو تم پر! تم نے ہم کو ترک کرديا حالانکہ تلواريں ابھي نياموں ميں ہيں اور ابتدائے کار ہے اور ابھي جنگ کا فيصلہ يقيني نہيں ہوا ہے؛ ليکن تم ٹڈيوں کي مانند اس (جنگ) کي جانب دوڑے ہو اور مچھروں کي پرواز کي مانند ايک دوسرے کو اس کي جانب بلا چکے ہو-
نابودي اور ہلاکت ہو تمہارے لئے! اے امت کے غلامو اور اے امت کے بدترين گروہو! اے وہ لوگو! جنہوں نے قرآن کو کنارے لگاديا اے کلام کي تحريف کرنے والو اور گنہگاروں کے گروہو اور شيطان کے وسوسے قبول کرنے والو اور اے ابدي سنتوں کو بجھا دينے والو! کيا تم ان کي مدد کررہے ہو اور ہميں ترک کرديتے ہو؟!
خدا کي قسم! خيانت اور غداري ماضي سے تمہارے ہاں ايک روايت چلي آرہي ہے اور تمہاري جڑيں خيانت ميں پيوست ہوکر اس کے ساتھ مخلوط ہوگئي ہيں اور تمہاري بيليں خيانت کے سہارے اوپر چڑھ گئي ہيں- تم ديکھنے والوں کے لئے گلے ميں پھنسنے والي بدترين ہڈي اور غاصبوں کے لئے تر نوالہ بن گئے ہو-
اور اس کے بعد فرمايا: "ألا وإنَّ الدَّعِيَّ ابنَ الدَّعِيِّ قَد رَكَزَ بَينَ اثنَتَينِ ، بَينَ السَّلَّةِ وَالذِّلَّةِ ، وهَيهاتَ مِنّا الذِّلَّةُ ، يَأبَى اللّه ُ لَنا ذلِكَ ورَسولُهُ وَالمُۆمِنونَ ، وحُجورٌ طابَت ، وحُجورٌ طَهُرَت ، واُنوفٌ حَمِيَّةٌ ونُفوسٌ أبِيَّةٌ ، مِن أن تُۆثَرَ طاعَةُ اللِّئامِ عَلى مَصارِعِ الكِرام”.

اس بے نَسَب ولد بے نَسَب شخص (5) نے مجھے دو چيزوں کے درميان قرار ديا ہے: شمشير اور ذلت اور ذلت دور ہے ہم سے (ہيہات منا الذلۃ) اور خداوند متعال ذلت ہمارے لئے قبول نہيں فرماتا نيز خدا کے پيغمبر (ص)، مۆمنين اور پاک و پاکيزہ دامن اور غيرتمند اور خوددار نفوس بھي ہمارے لئے گوارا نہيں کرتے کہ ہم پست فطرت اور رذيلوں کي اطاعت کو عزت کي موت پر ترجيح ديں-
جان لو کہ ميں اس خاندان کي موجودگي اور اصحاب کي قلت اور يار و مددگار نہ ہونے کے باوجود جنگ اختيار کرتا ہوں اور جنگ کے لئے ميدان ميں اترتا ہوں- (6)
سيدالشہداء عليہ السلام کے اس فرمان کے مطابق، ابتدائے بحث ميں مذکورہ سوال کا جواب يہ ہے کہ "جو شخص خدا اور رسول اور آپ (ص) کے خاندان پاک صلوات اللہ عليہم پر ايمان رکھتا ہے اور عملي ميدان ميں ان کا مطيع و فرمانبردار ہو اور اہل غيرت و عفت ہو؛ کسي صورت ميں بھي ذلت و خواري کي زندگي کو عزت کي سرخ موت پر ترجيح نہيں گا-
……………….
مآخذ:
5. دعي بن دعي سے مراد عبيداللہ بن زياد ہے جو اپني نام مرجانہ کے نام سے مشہور ہوا تھا اور اس کا باپ زياد بھي ماں سے منسوب تھا کيونکہ اس کا باپ نامعلوم تھا اور معاويہ نے شريعت اسلام کي خلاف ورزي کرتے ہوئے اعلان کيا کہ زياد درحقيقت سميہ کے ساتھ اس کے باپ ابوسفيان کے ناجائز تعلق کا نتيجہ ہے چنانچہ اس کو زياد بن ابوسفيان کہنا چاہئے اور اس کے زياد بن ايبہ نے بھي وقاحت و بے شرمي کي اتنہا کرتے ہوئے اسلامي تعليمات ہي کو نہيں بلکہ عرب روايات کو بھي پامال کرتے ہوئے سرکاري مکاتبات ميں اپنے نام کے ساتھ ابن سفيان لکھنا شروع کيا- امام حسن مجتبي عليہ السلام کے ايک خط ميں بھي اس نے اپنے ساتھ "ابن ابي سفيان” لکھا تو امام (ع) نے اس حديث کا حوالہ ديا کہ "الولد للفراش و للعاهر الحجر”، بچہ ماں کو ملے گا اور زاني کے لئے سنگسار ہے-
6. الملهوف : ص 155-

3:37 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔