سیسی سعودی عرب کے ساتھ حق نہیں بلکہ دولت کی خاطر کھڑے ہیں، ہم ناصر کو شکست دینے والوں کی اولاد ہیں، محمد الفرح
عبدالفتاح السیسی
شیعیت نیوز : یمن کی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے آمادگی کے اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یمن کے پاس دولت ہوتی تو سیسی یمن کی صف میں کھڑے ہوتے، انہوں نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان اس لیے نہیں کیا کہ وہ حق پر ہے بلکہ اس لیے کیا کہ اس کے پاس پیسہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مصر یمن کے خلاف تکفیریوں اور غاصب صیہونیوں کے ساتھ ایک مورچے میں کھڑا نہ ہو، یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر
ہفتے کی شب جاری کیے گئے اپنے بیان میں محمد الفرح نے کہا کہ یمن کے خلاف جارحیت میں شرکت کی بات انہیں حیران نہیں کرتی، کیونکہ سیسی جمال عبدالناصر سے زیادہ طاقتور نہیں اور یمنی عوام اپنے ان آباؤ اجداد سے کمزور نہیں جنہوں نے ناصر کو شکست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات پر ہے کہ مصر جیسے بڑے ملک کا صدر بوڑھے سلمان اور آل سعود کے ایک کم عمر شہزادے کی ہدایات پر عمل کی بات اس طرح کر رہا ہے جیسے وہ ان کا ماتحت ہو۔
انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ اس سازش میں شرکت کا مطلب سیسی کے سب سے بڑے مخالفین اخوان المسلمین کو مضبوط کرنا ہے، جنہیں سعودی عرب یمن اور باب المندب میں طاقت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام قاہرہ کو نسبتاً غیر جانبدار دارالحکومت سمجھتے ہوئے یہ امید رکھتے تھے کہ وہ سعودی جارحیت سے بہنے والا یمنی خون روکنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرے گا، لیکن لگتا ہے کہ سعودی دولت مؤقف چھان رہی ہے، دوست اور دشمن کا فرق مٹا رہی ہے اور دانا کو بھی اپنے مفادات سے اندھا کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اگر سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر اس کے دفاع کے لیے ہر اقدام کرے گا، اور انہوں نے اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ سے ہنگامی اجلاس بلا کر اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی اپنے مصری ہم منصب کے نام خط میں مصر کو یمن کے خلاف جارحیت کا حصہ نہ بننے کی تلقین کی تھی۔







