یمن طوفان الاقصیٰ کے آغاز سے ہی فلسطینی مجاہدین کے ساتھ مقدس معرکے میں شریک ہے، سید عبدالملک الحوثی

18 اکتوبر, 2026 09:22

شیعیت نیوز : یمن کی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے سربراہ اور قائد انقلاب سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کا وہ خط پہلی بار منظر عام پر آیا ہے جو انہوں نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ شہید یحییٰ السنوار کو ان کی شہادت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھا تھا۔ اس خط میں سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ ایمان کی سرزمین یمن تاریخی اور بابرکت آپریشن طوفان الاقصیٰ کے آغاز سے ہی فلسطین کے مجاہدین کے ساتھ مقدس معرکے میں شریک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : انصارالله کی مزاحمت اور استعمار کی طاقت

ہفتے کی شب نشر کیے گئے اس خط میں انہوں نے طوفان الاقصیٰ کو منصوبہ بندی، تیاری اور عمل درآمد کے لحاظ سے انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس اور اس کا عسکری ونگ قسام بریگیڈ امت مسلمہ کی جانب سے جہاد اور مسلمانوں کے بدترین دشمن کے مقابلے کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مقدسات، آزادی فلسطین، فلسطینی عوام کی نجات اور صیہونی خطرے کا مقابلہ تمام مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے، جبکہ اکثر حکومتوں کی جانب سے فلسطینی مجاہدین کی مدد سے پہلو تہی انتہائی افسوسناک ہے۔

سید عبدالملک الحوثی نے خط میں لکھا کہ یمن اس مقدس معرکے میں اپنی پوری کوشش کرے گا اور اس سے بھی زیادہ کرنے کی جدوجہد جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی میزائل فورس معرکے کی ضروریات کے مطابق میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے، یمن پانچویں مرحلے کے تقاضے پورے کر رہا ہے جس میں مقبوضہ یافا سمیت غاصب صیہونی ریاست کی گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بحیرہ احمر، خلیج عدن، باب المندب اور بحیرہ عرب میں یمنی بحری کارروائیوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور انہیں بحر ہند اور بحیرہ روم تک وسعت دینے پر کام جاری ہے۔

انہوں نے لکھا کہ فلسطینی عوام کی حمایت کے باعث یمن امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ کھلی جنگ میں ہے، امریکہ نے یمنی بحری کارروائیاں رکوانے کے لیے یمن پر 700 سے زائد فضائی حملے کیے مگر اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ قائد انقلاب نے زور دیا کہ فلسطین کے ساتھ یمن کا دینی، انسانی اور برادرانہ مؤقف کسی سیاسی، فوجی یا معاشی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، اور اللہ کا وعدہ ہے کہ عارضی اور غاصب صیہونی ریاست کا خاتمہ یقینی ہے۔

10:12 صبح اکتوبر 18, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔