کیا ایران کا اسرائیل پر براہ راست حملہ ممکن ہے؟ تنقید کرنے والوں کیلئے چشم کشاء رپورٹ
شیعیت نیوز: بار بار ایک ہی سوال پوچھا جارہا ہے کہ ابتک ایران اسرائیل کے ساتھ براہ راست کیوں نہیں ہو رہا؟، ارے صاحب آپ باقی اسلامی ممالک کوتیار کرلیں، ایران خود ہی جنگ میں کود جائیگا، ہمارے دوست جغرافیہ کی الف ب تک نہیں جانتے اور تبصرہ جھاڑ دیتے ہیں، اسرائیل کے جن ممالک سے بارڈ لگتے ہیں، پہلے اُن کی تفصیل جان لیں پھر بتائیں کیسے لڑنا ہے۔
پہلے نمبر پر مصر آتا ہے جس کا فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ بارڈر لگتا ہے، اس نے مہاجرین کیلئے راستے تک بند کیے ہوئے ہیں، اسرائیل کے ساتھ پیار کی پینگیں قائم کی ہوئی ہیں، اس ملک میں فوجی آمریت ہے، ایک منتخب حکومت کو گرا کر اسی لیے جنرل سیسی کو لایا گیا تاکہ اسرائیل کا تحفظ ہو سکے اور اس کے بارڈر پر ایک مضبوط عوامی حکومت نہ ہو، تقریباً کئی بلین ڈالرز سعودی عرب نے مہیا کیے تھے کہ اخوان المسلمون کی حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔
نمبر پر اردن ہے، یہاں بھی امریکی و اسرائیلی پٹھو حکومت ہے،، اس نے بھی اپنے راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ چے جائے کہ آپ اُن سے جنگ کرانے یا فضائی راستہ مانگ سکیں۔
تیسرے نمبر پر لبنان ہے جس کی حکومت کسی صورت اسرائیل سے نہیں لڑنا چاہتی، البتہ اس ملک میں ایک تنظیم جس کا نام ح،ز،ب اللہ ہے وہ لڑ رہی ہے اور اب تک کئی افراد شہید بھی کراچکی ہے، حتیٰ 2006 کی جنگ بھی ح،م،ا،س کے تحفظ میں اپنے سر لی تھی، یہی وجہ ہے اسرائیل ابھی تک زمین جنگ شروع نہیں کر سکا، ورنہ ایک لاکھ پر مشتمل فوج بارڈر پر موجود ہے۔ دوسرا غزہ کی پٹی اور لبنان کے درمیان صورتحال نقشہ کی مدد سے بھی دیکھ سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود ح،زب اللہ والے چیزیں وہاں تک پہنچاتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر شام ہے، جس پر سعودی عرب اور ترکی سمیت دیگر تقریباً تمام اسلامی ممالک نے د،ا،عش اور جب،تھ النصرہ کے ساتھ ملکر اس کی تباہی کرائی، نو سے دس سالہ خانہ جنگی کرائی گئی، آج نوبت یہ ہے کہ ح،م،اس کو ممکنہ اسلحہ کی سپلائی کے الزام میں اس کے دو ائیرپورٹ دمشق اور حلب ائیرپورٹ کو اسرائیلی فضائیہ نے تباہ کردیا ہے۔
ایران کا براہ راست کوئی بھی بارڈر اسرائیل سے نہیں ملتا۔ یہ یاد رکھیں کہ ح،ما،س نے ابتک جتنے بھی میزائل داغے ہیں یا راکٹ فائر کیے ہیں وہ سب ایران ہی کے فراہم کردہ ہیں، ورنہ غزہ کی یہ پٹی کب کی مٹ چکی ہوتی۔ یہ بات بھی نوٹ فرما لیں، جس دن بھی ایران نے اپنے ہی ملک سے اسرائیل پر براہ راست میزائل فائر کیے، جو یقیناً کسی اسلامی ملک کی فضائی حدود کراس کرکے ہی جائیں گے وہ سب سے پہلے چیخیں گے کہ ایران نے ہمیں جنگ میں جھونک دیا ہے، اس لیے اُس متعلقہ ملک کی حکومت کا اس جنگ میں کھڑا ہونا ضروری اور ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ ورنہ وہ ملک ایران کو ہی جنگی مجرم قرار دلائے گا، کیوں کہ اس جنگ کے اثرات مرتب ہوں گے اور اس ملک کو بھگتنے پڑیں گے۔
باقی یہ چیلنج پوری امت کا ہے نا کہ فقط ایران کا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اس وقت مصر، اردن، ترکی، یو اے ای، بحرین باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں، یہ اس کے اتحادی ہیں، سعودیہ تسلیم کرنے کے قریب ہے۔ اس وقت بھی جب تحریر لکھی جاری ہے جدہ میں او آئی سی کے اجلاس میں ایران نے مشورہ دیا ہے کہ کم از کم آپ جو کرسکتے ہیں وہ فوری طور پر اسرائیل کو تیل کی سپلائی روکنے، اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کرنے سمیت دیگر پابندیاں عائد کرنا ہے۔ مگر کیا ان تلوں سے تیل نکلے گا؟۔ یہ سوال آپ پر چھوڑتا ہوں۔







