ہم کسی ملک پر حملہ نہیں کرتے، مگر ہر حملے کے سامنے جان کی بازی لگا کر ڈٹ جائیں گے، ایرانی صدر
مسعود پزشکیان
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ دو صدیوں میں جارح ملک نہیں رہا، اس نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن ہر حملے کے سامنے پوری طاقت اور جرات کے ساتھ جان کی بازی لگا کر ڈٹ جائے گا اور دشمنوں کو ایران کی سرزمین پر میلی نگاہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ میں نامزد وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی کی اہلیت کے جائزے کے لیے منعقدہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان: امریکی پابندیاں غیر انسانی ہیں، ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا
رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، دفاع مقدس کے شہداء، 40 روزہ جنگ کے شہداء، شہید سائنسدانوں، شہید طلبہ اور شہید وزیر دفاع میجر جنرل عزیز نصیرزادہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی اور صیہونی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی مسلح افواج نے ایثار، فداکاری اور طاقت کے ایسے مناظر تخلیق کیے جنہوں نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی دوروں اور ملاقاتوں میں مختلف ممالک کے وزراء اور سربراہان ایرانی مسلح افواج کی طاقت، عزت اور سربلندی کو سراہتے ہیں، جبکہ خطے کے ممالک بھی اس دفاع اور استقامت پر حیران ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارا دفاع صرف میزائل نہیں، بلکہ ہمارے عوام اور ملک میں موجود اتحاد و یکجہتی بھی ایران کی دفاعی طاقت کا اہم حصہ ہیں، اور اگر عوام کی یہ ہمراہی جاری رہی تو کوئی طاقت ملک کی یکجہتی اور اندرونی قوت کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران جارح ممالک کی زیادہ طلبی اور غنڈہ گردی کے سامنے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا اور اپنی استقامت اور مزاحمت آخری سانس تک جاری رکھے گا۔
نامزد وزیر دفاع کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ وزارت دفاع میں ان کی 42 سالہ خدمات اور شہید تہرانی مقدم، شہید فخری زادہ اور شہید حاجی زادہ جیسے سائنسدانوں کے ساتھ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی دفاعی طاقت اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ وسیع وسائل اور ساز و سامان رکھنے والی غیر ملکی طاقتیں بھی آسانی سے ایران پر جارحیت کی جرات نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ مہرداد اخلاقی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور امریکہ کی ہٹ لسٹ پر بھی ہیں۔ بعد ازاں ایرانی پارلیمنٹ نے 237 ووٹوں سے ان کی بطور وزیر دفاع توثیق کر دی۔







