آبنائے ہرمز میں بدامنی امریکی و صیہونی جارحیت کا نتیجہ ہے، امریکہ نے دو ہفتے بعد عہد توڑا، ایرانی وزیر خارجہ
عباس عراقچی
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود بدامنی امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کا براہ راست نتیجہ ہے، جن کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا اور جو اب تک مختلف شکلوں میں جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بات بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال پر ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیں : ہم نے ہمسایوں پر نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ
سید عباس عراقچی نے خطے میں امن اور سفارت کاری کے لیے ایران کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ذمہ دارانہ سوچ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کی پاسداری کی ہے، لیکن امریکی فریق نے بارہا عہد شکنی کی اور تازہ ترین مثال میں جنگ کے خاتمے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے صرف دو ہفتے بعد ہی اپنا عہد توڑ دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل جڑ امریکی و صیہونی جارحیت اور واشنگٹن کی وعدہ خلافی ہے، جبکہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر پوری قوت کے ساتھ قائم ہے۔
انہوں نے مسئلہ فلسطین کو بدستور عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی اور مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے جرائم کی یاد دہانی کرائی اور زور دیا کہ قبضے اور نسل کشی کے خاتمے اور غاصب صیہونی حکومت کو حاصل سزا سے استثنیٰ ختم کرنے کے لیے امت مسلمہ کو فوری اور مشترکہ اقدام کرنا ہوگا۔
ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سید عباس عراقچی نے مصری ہم منصب کو ثالثوں کے ذریعے ہونے والی تازہ ترین سفارتی مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ ہفتے کی صبح اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں شرکت کے لیے عراق کے دارالحکومت بغداد پہنچے تھے، جو ’مکالمہ اور یکجہتی، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے دو بنیادی ستون‘ کے عنوان سے 17 اور 18 اکتوبر کو منعقد ہو رہا ہے۔







