ہم نے ہمسایوں پر نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ

17 اکتوبر, 2026 18:38

شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنے عوام، اپنی خودمختاری اور اپنے جائز مفادات کا دفاع کیا ہے اور ہر ممکن ذریعے سے یہ دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اپنے ہمسایوں پر حملہ نہیں کیا، لیکن ہم نے امریکی فوجی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کیا جو بدقسمتی سے ہمارے پڑوس میں واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ہماری میزائل طاقت نے مساوات بدل دی، اب امریکہ کو ‘جی جناب’ کہنا ہوگا، ایرانی وزیر دفاع

عراقچی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم رہا جبکہ امریکہ نے جارحیت، دھمکیوں، قتل اور معاشی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس جارحیت میں سینکڑوں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً پانچ ہزار ایرانی شہید ہوئے اور امریکہ اور غاصب اسرائیل نے رہبر معظم انقلاب اسلامی اور دیگر اعلیٰ سیاسی و فوجی حکام کو شہید کیا۔ انہوں نے میناب میں 160 سے زائد طلبہ و اساتذہ کی شہادت، لامرد اسٹیڈیم پر کلسٹر بم حملے، قشم میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر بمباری اور سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے کو ان جرائم کی چند دستاویزی مثالیں قرار دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 28 فروری 2026 تک آبنائے ہرمز کھلی تھی اور اس کے بعد سے بحری آمدورفت میں عدم تحفظ امریکہ اور غاصب اسرائیل کے جارحانہ اقدامات اور امریکی ناکہ بندی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی ثالثی اور قطر کی حمایت سے 17 جون کو ایران اور امریکہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے بعد بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 60 فیصد تک بحال ہو گئی تھی، مگر بعد کے یکطرفہ امریکی اقدامات اور فوجی کارروائی نے اس پر عملدرآمد روک دیا۔ عراقچی نے بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے ایک ٹھوس سات روزہ منصوبہ پہنچایا ہے جس کے تحت ضروری شرائط پوری ہونے پر سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے، اور اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔

یمن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یمنی عوام پر مصائب ڈھانے میں امریکہ اور غاصب اسرائیل کا کردار ناقابل تردید ہے، اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور یمنی عوام کو دباؤ، پابندیوں اور محاصرے سے آزاد ہو کر باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ عراقچی نے کہا کہ خطے کے کسی بھی ملک کی سرزمین، فضائی حدود اور بنیادی ڈھانچہ کبھی ہمسائے پر حملے کا پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے، ایران جبر، دھمکی اور دباؤ کو قبول نہیں کرتا اور دباؤ میں آ کر اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، تاہم باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

7:21 شام اکتوبر 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔