افغانستان میں ہزارہ شیعوں کے مسائل حل کیے جائیں، علمائے کوئٹہ
شیعیت نیوز : کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ علماء اور معزز شخصیات کے ایک وفد نے افغانستان کے قونصل خانے میں قونصل جنرل مولوی فضل الحق شاکر سے ملاقات کی اور افغانستان میں ہزارہ شیعہ برادری کو درپیش مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : 13 دن کے طویل انتظار کے بعد زائرین کا کانوائے کوئٹہ روانہ، ریمدان بارڈر استعمال کرنے کی اپیل
وفد میں امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، امام جمعہ کوئٹہ علامہ علی حسنین حسینی، عبدالعلی اصغری، علامہ شیخ ولایت حسین جعفری، علامہ سید محمود الحسینی، حاجی ٹھیکیدار سرور، حاجی الطاف حسین اور حاجی غلام حسین اخلاقی شامل تھے۔
ملاقات کے آغاز میں علامہ سید ہاشم موسوی نے افغانستان میں ہزارہ برادری کو درپیش مسائل اور مظالم کے حوالے سے کوئٹہ کے عوام کے تحفظات تفصیل سے بیان کیے، جن میں غزنی کے علاقے نوآباد کے رہائشیوں کی جبری بے دخلی کا فیصلہ، شہرک سبز (شہرک نبی زادہ) کو خالی کروانے، ہرات کے علاقے جبرائیل میں املاک اور دکانیں خالی کروانے کے فیصلے، اور کابل میں مدرسہ خاتم النبیینؐ اور کابل یونیورسٹی کی بندش شامل ہیں۔
علامہ علی حسنین حسینی نے ان مسائل اور عوامی اعتراضات پر مشتمل تحریری یادداشت پڑھ کر سنائی، جبکہ عبدالعلی اصغری نے عبدالرحمن کے دور سے غصب شدہ اراضی کے معاملے پر گفتگو کی اور اس حوالے سے یادداشت قونصل جنرل کے حوالے کی۔ علامہ سید ہاشم موسوی نے بھی غصب شدہ اراضی کے مسئلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر قونصل جنرل مولوی فضل الحق شاکر نے وفد کو خوش آمدید کہا اور یقین دہانی کروائی کہ پیش کیے گئے اعتراضات اور تحفظات کابل حکومت تک ضرور پہنچائے جائیں گے۔







